.

مسلمان میری کرسمس کہنے سے گریز کریںانڈونیشی علماء کا فتویٰ

کرسمس تقریبات مذہبی نوعیت کی ہوتی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
پوری دنیا میں عیسائیوں کے تیوہار کرسمس کو منانے کی تیاریاں کی جارہی ہیں اور کرسمس میں صرف پانچ دن باقی رہ گئے ہیں لیکن انڈونیشیا کے مسلمان ابھی تک اس بات کا فیصلہ نہیں کرسکے کہ وہ اس کا حصہ ہوں گے یا نہیں جبکہ علماء نے فتویٰ جاری کیا ہے کہ وہ کرسمس کی تقریبات میں شرکت سے گریز کریں۔

انڈونیشیا کی ایک نیوز ویب سائٹ کے مطابق اب تک ملک کے راسخ العقیدہ مسلمانوں نے کرسمس کو منانے سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کیا۔انھوں نے یہ بھی فیصلہ نہیں کیا کہ آیا اسلام میں یہ منانا حرام ہے یا حلال ہے؟

انڈونیشی علماء کی کونسل نے بدھ کو ایک بیان جاری کیا تھا اور اس میں مسلمانوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ میری کرسمس جیسے الفاظ کہنے سے گریز کریں۔کونسل کے چئیرمین معروف امین نے کہا کہ کرسمس کے حلال یا حرام ہونے کے حوالے سے بحث جاری ہے لیکن آپ ''ہیپی نیو ائیر'' کہہ سکتے ہیں۔

انھوں نے مزید بتایا کہ ''کونسل نے ایک فتویٰ جاری کیا ہے۔اس کے تحت مسلمانوں کو کرسمس کی تقریبات میں شریک ہونے سے روک دیا گیا ہے کیونکہ یہ مذہبی نوعیت کی ہوتی ہیں۔اس لیے کسی بھی مسلمان کے لیے ان میں شرکت کرنا حرام ہوگا''۔

امریکا کے مرکزی خفیہ ادارے سی آئی اے کے اعدادوشمار کے مطابق انڈونیشیا کی کل آبادی چوبیس کروڑ چھیاسی لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ان میں چھیاسی فی صد مسلمان ہیں اور صرف تین فی صد رومن کیتھولک عیسائی ہیں۔