.

ایران اذان کے دوران مسافر طیاروں کی اڑان پر پابندی

پروازوں کو نماز فجر کی اذان کے 30 منٹ بعد اڑنے کی اجازت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
ایران کی پارلیمان نے ملک میں نمازوں کے لیے اذان کے دوران مسافر طیاروں کی پرواز پر پابندی عاید کر دی ہے۔

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی 'مہر' نے پارلیمان کی ثقافتی کمیٹی کے ترجمان علی طاہری کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں انھوں نے کہا کہ ''نئے حکم نامے کے تحت مسافر طیاروں کے اذان اور خاص طور پر نمازفجر کے اوقات کے دوران اڑان بھرنے پر پابندی ہو گی''۔

ایران کے محکمہ شہری ہوابازی کے سربراہ حامد رضا پہلوانی نے ایک بیان میں بتایا کہ ''پروازوں کو نماز فجر کی اذان کے تیس منٹ کے بعد اڑنے کی اجازت دی جائے گی تاکہ مسافر حضرات اپنا مذہبی فریضہ ادا کرسکیں''۔

طاہری نے کہا کہ ''ہوائی اڈوں یا فضائی کمپنیوں میں کام کرنے والی خواتین کے لیے اسلامی لباس کے ضابطے پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے گی''۔ایران میں نافذالعمل لباس کے ضابطے کے تحت خواتین اپنے سَروں کو ڈھانپنے اور تمام جسمانی نقوش کو چھپانے کے لیے مناسب شائستہ لباس پہننے کی پابند ہیں۔اس کی خلاف ورزی کی صورت میں انھیں کوڑے مارے جاسکتے ہیں،ان پر جرمانہ عاید کیا جا سکتا ہے یا پھر انھیں قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

واضح رہے کہ ایران میں 1979ء کے انقلاب کے بعد سے شیعہ اسلام کے مطابق شرعی قوانین نافذ ہیں اور موجودہ صدر محمود احمدی نژاد کے 2005ء میں برسراقتدار آنے کے بعد سے شرعی قوانین کے نفاذ میں سختی کی جا رہی ہے۔