.

سعودی علماء کی وزیر محنت کو مطالبہ نہ ماننے پر بددعا کی دھمکی

مخصوص ملبوسات کی دکانوں پر خواتین کی ملازمت پر پابندی کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
سعودی عرب میں خواتین کی مخصوص ملبوسات کی دکانوں یا دوسری جگہوں پر ملازمتوں کا معاملہ سنگین صورت اختیار کر گیا ہے اور ملک کے کم سے کم دوسو سرکردہ علماء نے وزیر محنت کو دھمکی دی ہے کہ اگر انھوں نے خواتین کو ملازمت کی اجازت دینے کا سلسلہ جاری رکھا تو وہ ان کے پیش رو کی طرح ان کے حق میں بھی بددعا کریں گے۔

سعودی علماء نے وزارت محنت میں منگل کو منعقدہ اپنے اجلاس میں وزیر محنت عادل فقیہہ پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ ایک مغربی منصوبے پر عمل پیرا ہیں۔انھوں نے وزیر موصوف سے مطالبہ کیا کہ وہ ایک ماہ کے اندر خواتین پر مخصوص ملبوسات کی دکانوں پر کام کرنے پر پابندی عاید کریں ورنہ انھیں بددعا کا سامنا کرنا پڑے گا۔

وزارت محنت نے 2011ء میں خواتین کے مخصوص ملبوسات کی دکانوں پر مردوں کی جگہ سعودی خواتین کو بھرتی کرنے کے فیصلے کا نفاذ کیا تھا اوراس کا بڑا مقصد خواتین کو روزگار مہیا کرنے کے علاوہ مردوں سے مخصوص ملبوسات کی خریداری میں ہچکچاہٹ محسوس کرنے والی خواتین کے حجاب کو دور کرنے میں مدد دینا تھا۔

اجلاس کے دوران مختلف مذہبی شخصیات نے وزیر محنت کو ان کے اس فیصلے کی وضاحت کے لیےکوئی وقت نہیں دیا اور انھوں نے وزیر موصوف کو آڑے ہاتھوں لیا۔ وزیر محنت اس فیصلے کے سعودی معیشت اور خواتین کے لیے ثمرات بیان کرنا چاہتے تھے لیکن ان کے الفاظ ان کے حلق ہی میں اٹک کر رہ گئے اور علماء انھیں کچھ کہنے سے روکتے رہے۔

ایک عالم دین نے وزیر محنت کو مخاطب کرکے کہا کہ''میں نے وزارت کے ایک سنئیر عہدے دار کے خلاف بد دعا کی تھی۔ وہ کینسر کے موذی مرض کا شکار ہو گیا اور پھر موت کے منہ میں چلا گیا۔ یہ اس لیے کیا گیا تھا کیونکہ ان صاحب نے خواتین سے متعلق فیصلوں پر عمل درآمد شروع کر دیا تھا''۔

ایک سعودی روزنامے الاقتصادیہ کی رپورٹ کے مطابق عالم دین سابق وزیر محنت غازی الغصیبی کو لاحق ہونے والی مہلک بیماری کا حوالہ دے رہے تھے۔ وہ 2010ء میں سرطان کے مرض میں مبتلا ہو کر انتقال کر گئے تھے۔


اجلاس میں شریک ایک اورمذہبی شخصیت نے کہا کہ ''حکومت کا کام خواتین کو ملازمت مہیا کرنا ہےلیکن یہ فیصلہ کرنا اس کا کام نہیں کہ انھیں کہاں ملازمت کرنی چاہیے''۔

ایک اور عالم دین نے وزیر محنت کو مخاطب کرکے کہا کہ ''میں آپ کو خبردار کر رہا ہوں، بغاوت کے بیج نہ بوئیں۔ہم یہاں صرف مشورہ دینے کے لیے آئے ہیں۔آپ کی وزارت نے ہماری بیٹیوں کو ایسی جگہوں پر پہنچا دیا ہے جو ہماری اقدار سے لگا نہیں کھاتی ہیں''۔

علماء کے تابڑ توڑ حملوں کے بعد وزیر موصوف کو اپنے فیصلے کے دفاع کا بھی تھوڑا بہت موقع مل گیا اور انھوں نے موقف اختیار کیا کہ خواتین پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی مختلف کام کرتی رہی تھیں۔اسی طرح اگر خواتین کے مخصوص ملبوسات کی دکانوں پر خواتین ہی اشیاء فروخت کرتی ہیں تو اس کا کوئی جواز بنتا ہے اور یہ مردوں سے بہتر ہے۔ انھوں نے علماء سے کہا کہ اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ وزارت محنت قانون کی خلاف ورزی کی مرتکب ہو رہی ہے تو وہ اپنے کیس کے ساتھ اس کے خلاف عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں۔