.

اخوان کے مرشد عام اور ایرانی صدر یہود مخالفین میں سرفہرست

انتہا پسند نیتن یاہو کا کارٹون بنانے والا یہود مخالفین میں شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
امریکا میں قائم سائمن وائزنتھال سنٹر نے یہود مخالف سیاسی شخصیات کی ایک فہرست جاری کی ہے۔ اس میں مصر کی سب سے بڑی مذہبی،سیاسی جماعت اخوان المسلمون کے مرشد عام محمد بدیع اور ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کا نام سرفہرست ہے۔

سائمن وائزنتھال سنٹر دنیا بھر میں یہود کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کررہا ہے۔ اس کی اپنی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق دنیا میں یہود مخالفین کی فہرست میں محمد بدیع پہلے نمبر پر ہیں۔ وہ یہودیوں کی مذمت کے لیے گاہے گاہے سخت بیانات جاری کرتے رہتے ہیں۔اس مرکز کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنے بیانات میں یہودیوں کی تباہی کی خواہش کا بھی اظہار کیا تھا۔

اس رپورٹ کو اسرائیلی روزنامے معاریف نے شائع کیا ہے اور اس میں اخوان کے مرشد عام کے بعض بیانات بھی نقل کیے گئے ہیں۔ان میں انھوں نے کہا تھا کہ ''یہود نے دنیا پر حکمرانی کی تھی،کرپشن کو پھیلایا ،خون بہایا اور مقدس مقامات کی بے حرمتی کی تھی''۔

امریکی مرکز کی جاری کردہ فہرست میں ایرانی صدر محمود احمدی نژاد دوسرے نمبر پر ہیں۔ وہ یہود مخالف تند وتیز بیانات دینے کے لیے مشہور ہیں۔ انھوں نے اپنے بیانات میں کہا تھا کہ صہیونی دنیا کی بڑی طاقت کو کنٹرول کر رہے ہیں۔

برازیلی کارٹونسٹ کارلوس لطف کو اس فہرست میں تیسرے نمبر پر رکھا گیا ہے۔ان سے یہود مخالف یہ حرکت سرزد ہوئی تھی کہ انھوں نے اپنے ایک کیری کیچر میں اسرائیل کی غزہ کی پٹی پر حالیہ جارحیت کو اجاگر کیا تھا۔ اس میں انھوں نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو ایک فلسطینی خاتون کو تباہ کرتے ہوئے دکھایا تھا۔ مذکورہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ مضحکہ خیز کیری کیچر اسرائیل اور اس کے وزیر اعظم کی توہین ہے اور یہ یہود مخالف جذبات کا واضح اظہار ہے۔

فہرست میں یورپ کے فٹ بال شائقین بھی چوتھے نمبر پر شامل ہیں۔خاص طور پر ان شائقین کو یہود مخالف قرار دیا گیا ہے جو یہودیوں کے حامی برطانوی کلب ٹوٹنہام کے خلاف کھیلنے والی ٹیموں کو خوب داد دیتے رہے ہیں۔

اس رپورٹ کے مطابق ٹوٹنہام کے حامی شائقین کو گذشتہ سال دوسرے فٹ بال کلبوں کے حامیوں کی جانب سے میچوں کے دوران مسلسل ہراساں کیا جاتا رہا ہے اور دوسرے شائقین میچوں کے دوران یہود مخالف جذبات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔یہودیوں کے حامی کلب کے ویسٹ ہام یونائیٹڈ کے خلاف میچ کے دوران شائقین نے بھرپور نعرے بازی کی تھی اور یہ کہا تھا کہ ''ہٹلر آرہا ہے'' اور ''گیس چیمبر تیار ہیں''۔

فہرست میں یوکرین کی جماعت سوبوڈا کا نام پانچویں نمبر پر ہے۔اس جماعت کے ارکان نے ایک اداکارہ آئیگور میروشنچنکو کو یہودیہ قرار دیا تھا۔اس جماعت کے چئیرمین نے یوکرین میں مقیم چار لاکھ سے زیادہ یہودیوں کو نکال باہر کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔رپورٹ میں اس بات پر بھی حیرت کا اظہار کیا گیا ہے کہ اس جماعت نے یوکرین میں منعقدہ گذشتہ عام انتخابات میں اکتالیس نشستوں پر کامیابی حاصل کر لی تھی۔

رپورٹ میں یونان کی ایک جماعت گولڈن ڈان چھٹے نمبر پر ہے۔اس جماعت کا لوگو نازیوں کی علامت جیسا ہے۔یہود مخالفین کی اس فہرست میں ہنگری اور ناروے سے تعلق رکھنے والی سیاسی جماعتوں اور صحافی جیکب آگسٹائن کا نام بھی شامل ہے۔اس صحافی کا قصور محض یہ تھا کہ انھوں نے غزہ کی پٹی پر اسرائیل کے حالیہ حملے اور اس کے جوہری پروگرام کی مذمت کی تھی۔

اس فہرست کے آخر میں افریقی امریکی تحریک کے مسلم لیڈر لوئی فرح خان کا نام ہے۔ انھوں نے یہودیوں پر الزام عاید کیا تھا کہ وہ افریقی امریکیوں کے سنئیر عہدوں پر فائز ہونے کی راہ میں حائل ہیں اور ان کی ترقی کے مخالف ہیں۔