.

شامی کردستان کا نقشہ سرحدوں کے تعین کے ساتھ جاری

کردستان میں شامل علاقوں کی مکمل وضاحت نہیں کی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
جرمنی کے شہر بون میں قائم کرد سنٹر برائے لیگل اسٹیڈیز اور کنسلٹینسی (المعروف یاسا) نے شامی کردستان کا ایک نقشہ جاری کیا ہے۔اس میں شام کے اندر کرد اکثریتی علاقوں کی سرحدوں کی نشان دہی کی گئی ہے۔

اس نقشے کے مطابق شامی کردستان کا آغاز شمال مشرق میں واقع حسکہ گورنری کے ایک گاؤں عین دیوار سے ہوتا ہے اور ترکی کی سرحد کے ساتھ ساتھ شمال مغرب میں واقع شہر اسکندرون میں جاکر کا اس کا اختتام ہوتا ہے۔اس میں شام کے شمال میں واقع بعض شہر شامل کیے گئے ہیں جہاں کردوں ،عربوں اور عیسائیوں کی آبادی ہے جبکہ قامشیلی کو اس کا دارالحکومت ظاہر کیا گیا ہے۔

تاہم اس نقشے میں شامی کردستان کے تمام علاقے کا حقیقی تعین نہیں کیا گیا کہ اس میں کون کون سا علاقہ اور شہر شامل ہوگا۔کردمرکز کے مطابق فی الوقت سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ایسا کرنا ممکن نہیں ہے۔

یاسا کے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق اس وقت شام میں مقیم کردوں کی تعداد تیس لاکھ کے لگ بھگ ہے اور وہ ملک کے شمالی علاقے میں رہ رہے ہیں۔اس علاقے میں ان کے ساتھ عیسائی اور عرب اقلیت میں رہتے ہیں۔یاسا کے ایک سنئیر عہدے دار بدراخان کا کہنا ہے کہ کردستان کا نقشہ شامی ریاست کی انتظامی تقسیم کے مطابق نہیں ہے بلکہ اس کو کرد آبادی کی علاقے میں موجودگی کے پیش نظر وضع کیا گیا ہے اور کرد ان علاقوں میں صدیوں سے آباد چلے آرہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں عربوں کو وسطی شام سے لا کر بسایا گیا تھا۔تاہم ان میں بعض عرب مقامی باشندے بھی ہیں۔اسی طرح عیسائی بھی اس علاقے کے مقامی قدیمی باشندے ہیں جبکہ دریائے فرات کے مغربی کنارے آباد بعض دیہات میں ترکمن رہ رہے ہیں۔

بدراخان کے بہ قول:''شام میں کرد جن علاقوں میں اکثریت میں رہ رہے ہیں ،وہ وہاں عدم مرکزیت کے حامل سیاسی نظام کا مطالبہ کررہے ہیں۔وہ دوسری اقلیتوں کے ساتھ مل کر اپنا نظم ونسق چلانا اور ریاست شام ہی کا حصہ رہنا چاہتے ہیں لیکن اس کے لیے ان کی شرط یہ ہے کہ مقامی اور بین الاقوامی سطح پر ان کے حقوق کو تسلیم کیا جائے''۔

ان کا کہنا ہے کہ شامی حزب اختلاف کردوں کے حقوق کو تسلیم کرتی ہے لیکن دونوں فریقوں کے درمیان کرد اکثریتی علاقوں میں نظم ونسق کو چلانے کے لیے کوئی اتفاق رائے نہیں پایا جاتا ہے۔

تاریخی شواہد کے مطابق کردوں نے فرانسیسی استعمار کے قبضے سے آزادی میں اہم کردار ادا کیا تھا اور اس سے پہلے وہ سلطنت عثمانیہ کے خلاف بھی آزادی کے نام پر تحریک چلاتے رہے تھے۔1920ء میں اتحادیوں اور سلطنت عثمانیہ کے درمیان طے پائے معاہدہ سیورے کے تحت شامی کردوں کو اپنے علاقوں میں ایک ریاست کی تشکیل کا حق دیا گیا تھا۔تاہم 1923ء میں طے پائے معاہدہ لوسین کے بعد اتحادیوں نے ترکی کے مطالبات کے پیش نظر کردوں کے حقوق کو نظرانداز کردیا تھا اور ایک خود مختار ریاست کے قیام کے لیے ان کے خواب بکھر کررہ گئے تھے۔