.

صدر مرسی کی توہین پر کامیڈی شو کے میزبان سے تفتیش کا حکم

اسلام پسند مذہب اور سیاست میں تفریق نہیں کر سکے: ٹی وی اینکر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر کے پراسیکیوٹر جنرل نے ایک مقامی ٹی وی چینل کے طنزیہ شو کے میزبان باسم یوسف کے خلاف صدر محمد مرسی کی توہین کے الزام میں تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

باسم یوسف نے اپنے شو البرنامج (پروگرام) میں حکمراں اسلام پسندوں اور صدر محمد مرسی کا مضحکہ اڑایا تھا۔ ذرائع کے مطابق قاہرہ کے پراسیکیوٹر کو کیس منتقل ہونے کے بعد باسم سے پوچھ گچھ کا آغاز کیا جا سکتا ہے۔

ٹی وی میزبان کے خلاف ایک وکیل رمضان عبدالحامد الاقصری نے درخواست دائر کی تھی۔ وہ ماضی میں بھی میڈیا کی شخصیات اور سیاست دانوں کے خلاف اس طرح کی درخواستیں دائر کرتے رہے ہیں۔

باسم یوسف نے گذشتہ ماہ العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ''میں نے کسی کو تنقید کا نشانہ نہیں بنایا تھا بلکہ طنز کی تھی اور مضحکہ اڑایا تھا۔ اس پر انھیں اسلام پسندوں کے غیظ وغضب کا نشانہ بننا پڑا تھا''۔

انھوں نے کہا تھا کہ ''مصر میں دایاں بازو امریکا سے مختلف ہے کیونکہ یہاں لوگ مذہب کے بارے میں بہت زیادہ جذباتی ہیں۔ وہ سیاست اور مذہب کے درمیان فرق نہیں کر سکتے۔ اخوان المسلمون اور سلفی تحریک دایاں بازو ہیں۔ میں ان کے ساتھ ایک مذہبی گروپ کے طور پر معاملہ نہیں کرتا بلکہ ایک سیاسی گروپ کے طور پر معاملہ کرتا ہوں''۔

مصر کے پراسیکیوٹر جنرل طلعت ابراہیم نے ستائیس دسمبر کو حزب اختلاف کی تین سرکردہ شخصیات عمرو موسیٰ ،حمدین صباحی اور محمد البرادعی کے خلاف صدر محمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کے الزام میں تحقیقات کا حکم دیا تھا لیکن جس وکیل نے ان کے خلاف درخواست دائر کی تھی، اس نے اپنا کیس واپس لے لیا ہے۔