.

یمن بیویوں کے ہاتھوں شوہروں کے قتل کے واقعات میں ہوشربا اضافہ

سال 2012ء میں 50 خواتین قتل کے الزامات میں گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
یمن میں سال 2012ء کے دوران کم سے کم پچاس خواتین کو قتل کے مختلف الزامات میں گرفتار کیا گیا تھا اور ان میں سے بیشتر پر اپنے ہی خاوندوں کے قتل عمد کا الزام عاید کیا گیا تھا۔

یمن کی وزارت داخلہ کی جانب سے اسی ہفتے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق گرفتار کی گئی عورتوں کی عمریں پچیس سے پچاس سال کے درمیان ہیں اوران قاتلات نے اپنے کسی قریبی عزیز کی مدد سے جرائم کا ارتکاب کیا تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عدم مساوات ،گھریلو تشدد اور جذباتی محرکات قتل جیسے جرائم کی بعض وجوہ ہیں۔ بیویوں کے ہاتھوں خاوندوں کی ہلاکتوں کے ہوشربا واقعات یمن کے علاقوں مہاویط ،تعز ،حجاہ ،صنعا ،عمران اور مآرب میں پیش آئے تھے۔تاہم اقدام قتل کا شکار ہونے والی خواتین کی تعداد قاتلات کی تعداد سے دگنا ہوگئی ہے۔

ایک ماہر نفسیات ڈاکٹر مجیب عبدالباری نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کسی فرد کے ساتھ جسمانی اور نفسیاتی طور پر مستقل ناروا سلوک اس کو تبدیل کرکے رکھ دیتا ہے اور اس کو متشدد بنا دیتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اگر روزانہ ہی کسی عورت کی بے عزتی کی جائے اور اس سے ناروا رویہ اختیار کیا جائے تو وہ ناامیدی کا شکار ہو کر غصیلی ہو جاتی ہے۔اس صورت حال میں عورتیں اپنے عورت پن کو بھول جاتی ہیں اور وہ اپنے خاوندوں کو قتل کرنے سے بھی گریز نہیں کرتی ہیں۔

انھوں نے مزید بتایا کہ یمن کے صوبہ مآرب کے ایک گاؤں میں 7 اگست 2012ء کو اس قسم کے تشدد کا سب سے اندوہناک واقعہ پیش آیا تھا اور ایک چالیس سالہ عورت نے خاندانی تنازعے پر اپنے شوہر اور دو بیٹوں کو قتل کر دیا تھا۔

ڈاکٹر عبدالباری نے یمنی حکومت کو تجویز پیش کی کہ وہ اس طرح کے جرائم کے اعداد وشمار کو نہ صرف شائع کرے بلکہ ملک میں خواتین کی آگہی کے لیے پروگراموں کا بھی آغاز کرے۔ ان سے خواتین کو معاشرے کا مفید شہری بننے میں مدد ملے گی اور وہ اپنی بے توقیری کا بھی مقابلہ کر سکیں گی اور وہ خود بہتر فیصلے کر سکیں گی۔

''اگر خواتین نے شادیوں میں غلط فیصلے کیے ہیں تو انھیں قانونی طریقے سے اپنے مسائل کے حل کی راہ اپنانی چاہیے۔ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ طلاق لے لیں یا اپنے والدین کے ہاں چلی جائیں اور وہاں ان کی نفسیاتی لحاظ سے مدد کی جاسکتی ہے''۔ان کا مزید کہنا تھا۔