.

پاک ۔ ایران گیس منصوبہ پر امریکا کو تشویش کا امکان: پیٹرک وینٹریل

امریکا کو معاہدے پر تشویش نہیں: پاکستانی وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کا کہنا ہے کہ اسے پاکستان اور ایران کے مجوزہ پائپ لائن معاہدے پر شدید تشویش ہو سکتی ہے تاہم اس حوالے سے پاکستان پر عالمی ذمہ داریاں بنتی ہیں۔

ان خیالات کا اظہار امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان پیٹرک وینٹریل نے واشنگٹن میں میڈیا کو اختتام ہفتہ بریفنگ دیتے ہوئے کیا، جبکہ اس سے قبل پاکستانی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر اس منصوبے کے حوالے سے امریکی تشویش کے تاثر کو مسترد کر چکی ہیں۔

امریکی محکم خارجہ کے ترجمان نے پاکستان کے ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن کی تعمیر کے حوالے سے پوچھے جانے والے سوال کے جواب میں کہا کہ اگر ایران پاکستان پائپ لائن کی تعمیر کے سمجھوتے کو آخری شکل دے دی گئی ہے تو اس سے امریکا کو ایران پر پابندیوں کے قانون یا یو ایس ۔ ایران سیکشن ایکٹ کے تحت شدید تشویش ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اب تک یہ سوال مفروضے پر مبنی ہے لیکن اس سلسلے میں امریکا کا موقف واضح ہے۔ امریکی ترجمان نے کہا یقییناً ہم اس معاملے کا قریب سے جائزہ لے رہے ہیں اور اسے دیکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی برادری اور انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے ادارے کے بورڈ آ ف گورنرز کے موجودہ رکن اور اقوام متحدہ میں سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کی حیثیت سے پاکستان اس بات کا پابند ہے کہ وہ ایران کو عالمی برادری کی جانب سے اس کی کیمیائی ذمہ داریوں کا پابند ہونے پر قائل کرنے کی کوششوں میں شریک رہے۔

اس سوال کہ اگر ایران اور پاکستان گیس پائپ لائن کی تعمیر کے سلسلے میں آگے بڑھتے ہیں تو کیا امریکا ایران پر پابندیاں عائد کر سکتا ہے کے جواب میں امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا ’جو کچھ ہوگا وہ امریکا کے ایران سے متعلق پابندیوں کے قانون کے تحت یا یو ایس ایران سیکشنز ایکٹ کے تحت ہوگا‘۔ انہوں نے کہا کہ ایسا سوال مفروضوں پر مبنی ہے تاہم امریکا اس معاملے کو بغور دیکھ رہا ہے۔

ترحمان پیٹرک وینٹریل نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ امریکا پاکستان کی توانائی ضروریات پر اس کے ساتھ رابطے میں ہیں اور اس مسئلے پر وہ امریکا کا واضح موقف جانتے ہیں۔ امریکی محکمۂ خارجہ کی جانب سے مجوزہ پاکستان ایران پائپ لائن معاملے پر یہ پہلا تاہم واضح ردعمل سامنے آیا ہے۔

اس سے قبل پاکستانی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کا یہ بیان سامنے آ چکا ہے کہ پاک ۔ ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر امریکا نے تحفظات ظاہر نہیں کئے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی محکمہ خارجہ کے قائم مقام ترجمان کا بیان دیکھا ہے اس میں تحفظات کی کوئی بات نہیں بیان کو غلط انداز میں لیا گیا، نہ پاکستان پر کوئی دباﺅ ہے اور نہ ہی امریکا نے باضابطہ کوئی ایسی بات کی ۔حنا ربانی کھر نے کہا کہ خوش ہونا چاہئے کہ پاکستان کو گیس مل رہی ہے۔

دوسری جانب ہفتے کے روز کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مشیر پٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین نے کہا ہے کہ گواردر میں ایرانی آئل ریفائنری کے قیام کیلئے معاہدے پر دستخط بھی ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ11مارچ کو ایرانی بارڈر سے گیس پائپ لائن کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھ دیا جائے گا جبکہ ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے میں پیش رفت ہو ئی ہے-

واضح رہے کہ ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ ای نے پاکستان کے صدر آصف علی زرداری سے بدھ کو ایران میں ہونے والی ملاقات میں کہا تھا کہ ایران اور پاکستان کو گیس پائپ لائن کی تعمیر کے سلسلے میں امریکی مخالفت اور دباؤ کو نظرانداز کرنا ہوگا۔ پاکستان کے صدر آصف علی زرداری بدھ کوگیس پائپ لائن منصوبے کو حتمی شکل دینے کے سلسلے میں دو روزہ دورے پر ایران پہنچنے تھے۔

خیال رہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان گیس پائپ لائن کے لیے سات اعشاریہ چھ ارب ڈالر کا معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت ایران کے جنوب میں فارس گیس فیلڈ کو بلوچستان اور سندھ سے جوڑا جانا ہے۔

ایرانی علاقے میں پاکستانی سرحد تک گیس پائپ لائن بچھانے کا عمل اب تکمیل کے قریب ہے جبکہ اس کے برعکس پاکستان کو صوبہ بلوچستان میں جو ساڑھے چھ سو کلومیٹر لمبی پائپ لائن بچھانی ہے اس پر ابھی تک کام شروع نہیں کیا گیا۔ پاکستان اور ایران کے درمیان اس پائپ لائن معاہدے کے مطابق دسمبر سنہ دو ہزار چودہ تک جو ملک تاخیر کی وجہ بنےگا اُسے بھاری جرمانہ دینا ہو گا۔