.

ایرانی سیاحوں کی آمد سے مصر میں شیعیت کے فروغ کا خدشہ

سیاحوں کے بھیس میں شیعہ تبلیغی بھیجے جا سکتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے معروف عالم دین صفوت حجازی نے ایران کے ساتھ سیاحتی سمجھوتے پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ایران میں آیت اللہ رجیم سیاحوں کے بھیس میں شیعہ مبلغین کو مصر میں بھیجنا شروع کردے گا۔

علامہ صفوت حجازی نے العربیہ کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران جہاں کہیں بھی موجود ہے،وہاں مسائل پیدا کیے جارہے ہیں،اس ضمن میں انھوں نے لبنان اور شام کی مثال دی۔انھوں نے کہا کہ جب سے ایران میں انقلاب برپا ہوا ہے،تہران کا آیت اللہ رجیم سُنیوں میں خاص طور پر شیعیت پھیلانے کی کوشش کررہا ہے۔

علامہ حجازی نے انٹرویو میں اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ ''ایرانی سیاح مصر میں تاریخی سیاحتی مقامات کی سیر کے لیے نہیں آئیں گے بلکہ وہ اپنے مذہبی عقیدے کو پھیلانے کے لیے یہاں آئیں گے''۔

مصر کے وزیرسیاحت ہشام زازو قبل ازیں العربیہ کے ساتھ انٹرویو میں یہ کہہ چکے ہیں کہ قاہرہ حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ ایرانی سیاح صرف سیاحت کے لیے ہی مصر تشریف لائیں۔ان کے بہ قول ایران کے ساتھ سیاحتی تعلقات کے فروغ سے مصر کو فائدہ پہنچے گا۔

انھوں نے کہا کہ ملک میں جاری سیاسی بحران کے نتیجے میں سیاحت کے شعبے پر بہت منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ایران کے ساتھ سیاحت کے شعبے میں دوطرفہ تعلقات کی تجویز کا ہر پہلو سے جائزہ لیا گیا ہے اور مصریوں کے تمام ممکنہ تحفظات کو ملحوظ خاطررکھا گیا ہے۔

مصری وزیر نے العربیہ کو بتایا کہ ''قریبا ایک کروڑ ایرانی سیاح ہر سال عراق اور دوسرے خلیجی ممالک کی سیروسیاحت کے لیے جاتے ہیں۔مصر ،اسرائیل اور امریکا کے سوا تمام ممالک کے ایران کے ساتھ تعلقات استوار ہیں لیکن کسی بھی ملک میں ایرانی سیاحوں کی وجہ سے مسائل پیدا نہیں ہوتے''۔

ہشام زازو کا کہنا تھا کہ '' اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ ایرانی صرف سیاحتی مقاصد کے لیے ہی مصر آئیں کیونکہ ایران کی جانب سے سیاحتی تعلقات کے فروغ کے ضمن درخواست کسی مذہبی محرک کی بنیاد پر نہیں کی گئی تھی بلکہ مختلف تہذیبوں خاص طور پر مصر کی تاریخ اور تاریخی آثار کی بنیاد پر کی گئی تھی۔

وزیر سیاحت نے گذشتہ ہفتے ایرانی صدر محمود احمدی نژاد سے ملاقات کی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ سیاحت کے پروگراموں میں مذہبی مقامات کی سیر شامل نہیں ہوگی۔چھوٹے گروپوں کو مصر آنے کی اجازت دی جائے گی،اگر کوئی مسائل پیدا ہوئے تو ایران کے ساتھ سیاحت سے متعلق معاہدے کو فوری طور پر منسوخ کردیا جائے گا۔واضح رہے کہ ہشام زازو ہی نے تہران کے دورے میں ایرانی حکام کے ساتھ سیاحت کے فروغ سے متعلق مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے تھے۔