.

تیونسی وزیر دفاع عبدالکریم الزبیدی مستعفی: العربیہ ذرائع

مستعفی وزیر بحران کے تسلسل پر شاکی تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

العربیہ کو اپنے ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ تیونس کی کابینہ کے آزاد رکن اور وزیر دفاع عبدالکریم الزبیدی نے اپنے عہدے سے منگل کے روز مستعفی ہو گئے ہیں۔ انہیں استعفی دینے سے روکنے کی متعدد کوششیں کی گئیں تاہم وہ کامیاب نہیں ہو سکیں۔

عبدالکریم الزبیدی کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ وہ تیونس کے سیاسی حلقوں کی جانب سے حد درجہ نخوت دکھانے پر پریشان تھے، جو ان کے بہ قول ملک کو درپیش سیاسی بحران کے حل میں مدد نہیں دے رہی تھی۔ انہوں نے کہا ملک میں سیاسی حلقے یہ بات سمجھ نہیں پا رہے ہیں کہ ملک کو درپیش بحران کا فوری حال درکار ہے۔

انہوں نے کہا کہ اکتوبر 2011ء کے انتخابات سے پہلے جیسے ندائے تیونس کے رہنما الباجی قائد السبیسی کی سربراہی میں حکومت قائم کی گئی تھی ویسے ہی حکومت اس وقت تیونس کو بحران سے نکال سکتی ہے۔ بالخصوص تیونس میں آزاد حکومت کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔ عبدالکریم الزبیدی نے کہا کہ یہی بات مستعفی وزیر اعظم حمادی الجبالی حکمران جماعت کو باور کرانا چاہتے تھے۔

ذرائع کے مطابق عبدالکریم الزیبدی تیونس کے فیصلہ ساز اداروں کو کئی مہینوں سے ملک کو درپیش خطرات سے آگاہ کر رہے تھے، مگر ان کی کوشش رائیگاں گئی۔ ایسے میں وزیر موصوف کی ہمت جواب دے گئی اور انہوں نے صدر کو اپنا استعفی پیش کر دیا۔ انہوں نے استعفی سے پہلے تمام ممکنہ وسائل استعمال کئے اس لئے ان کا استعفی ذمہ داریوں سے فرار قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اسی ذریعے نے بتایا کہ ان کا استعفی سیاسی ایوان میں زلزلہ برپا کرنے کی کوشش ہے تاکہ وہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس کر سکیں۔

عبدالکریم الزیبدی کے استعفے نے تیونسی رائے عامہ کو خوف سے دوچار کر دیا ہے۔ سماجی رابطوں کے متعدد فورمز پر الزیبدی پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ مستعفی نہ ہوں اور اپنے عہدے پر قائم رہیں۔

منگل کی رات نئی حکومت کی تشکیل کے مذاکرات وزارت قانون، داخلہ اور مذہبی امور پر تنازعے کی وجہ سے تعطل کا شکار ہو گئے۔ متعلقہ حلقے بدھ کے روز صبح گیارہ بجے اپنے اجلاس میں دوبارہ شروع کریں گے۔