.

افغان صدر کرزئی کی ''امریکا، طالبان گٹھ جوڑ'' پر تنقید

طالبان نے امریکا سے مذاکرات کی بحالی کی تردید کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغان صدر حامد کرزئی نے امریکی وزیردفاع کے دورے کے موقع پر امریکا کوکڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اس پر الزام عاید کیا ہے کہ اس نے طالبان کے ساتھ گٹھ جوڑ قائم کررکھا ہے تاکہ افغانوں کو آیندہ سال کے بعد بھی غیرملکی فوج کی موجودگی برقرار رکھنے کا جواز فراہم کیا جا سکے۔

افغان صدر اتوار کو کابل میں خواتین کے عالمی دن کے سلسلہ میں منعقدہ تقریب میں تقریر کر رہے تھے۔ انھوں نے ہفتے کے روز دوبم حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد افغانوں کو یہ باور کرانا ہے کہ اگر امریکی فوج کا انخلاء ہوا تو پھر طالبان دوبارہ آجائیں گے۔ان دونوں بم دھماکوں میں سترہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

انھوں نے کہا کہ ''ان بم دھماکوں کے ذریعے امریکیوں کی خدمت کی جارہی ہے تاکہ غیر ملکیوں کو تادیر افغانستان میں تعینات رکھا جاسکے''۔حامدکرزئی کا یہ بیان ان کی ذاتی نوعیت کی رائے تو ہو سکتی ہے لیکن اس کا طالبان کے موقف سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ وہ ایک عرصے سے افغانستان سے امریکیوں سمیت غیرملکی فوج کی واپسی کا مطالبہ کرتے چلے آرہے ہیں۔

افغان صدر کا کہنا ہے کہ طالبان اور امریکا خلیجی ریاست قطر میں روزانہ کی بنیاد پر بات چیت کررہے ہیں لیکن طالبان مزاحمت کاروں اور امریکا نے ان کے اس دعوے کی تردید کردی ہے اور کہا ہے ان کے درمیان ایک سال سے تعطل کا شکار مذاکرات بحال نہیں ہوئے ہیں۔

حامدکرزئی امریکا مخالف اشتعال انگیز بیانات دینے کی تاریخ رکھتے ہیں اور اس کے ساتھ ان کے کوئی خوشگوار تعلقات استوار نہیں ہیں۔ان سے آج افغانستان کے دورے پر آئے ہوئے امریکی وزیر دفاع چک ہیگل ملاقات کرنے والے تھے۔اس ملاقات کے ایجنڈے میں 2014ء کے اختتام تک امریکا کی قیادت میں غیرملکی فوجوں کے انخلاء کا معاملہ سرفہرست ہوگا۔ان دونوں کی ملاقات کے بعد سکیورٹی وجوہات کے پیش نظر مشترکہ نیوزکانفرنس کو منسوخ کردیا گیا ہے۔

ایک امریکی عہدے دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پرحامدکرزئی کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ''یہ بالکل غلط ہے''۔ان کے بہ قول امریکی حکومت طالبان کے ساتھ مصالحت کے حق میں ہے مگر اس ضمن میں افغان حکومت اور مزاحمت کاروں کے درمیان سمجھوتا طے پانا چاہیے۔

دوسری جانب طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی حامدکرزئی کے بیان کو سختی سے مسترد کردیا ہے۔انھوں نے کہا کہ امریکا سے گذشتہ سال سے مذاکرات معطل ہیں اور اس کے بعد سے اس ضمن میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔واضح رہے کہ افغان حکومت اب تک طالبان کے ساتھ براہ راست مذاکرات میں ناکام رہی ہے جبکہ امریکا نے جنگ زدہ ملک سے آبرومندانہ واپسی کے لیے ان سے سلسلہ جنبانی شروع کیا تھا لیکن ان کے درمیان ماضی میں خفیہ مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی تھی۔