.

اندھی صہیونی نسلی پرستی سے 'شادی' جرم بن گئی

اسرائیلی فوج کو ناکے پر 'علامتی شادی' بھی گوارا نہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے کو مقبوضہ مشرقی بیت المقدس سے الگ کرنے والے بیرئر پر علامتی شادی کی ایک تقریب منعقد کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ اس علامتی شادی کے ذریعے 'زوجین' اور ان کے ساتھی فلسطینیوں اور اسرائیلی عربوں کے باہمی میل جول کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو ہدف تنقید بنانا چاہتے تھے۔

تفصیلات کے مطابق 'شادی' مغربی کنارے کے شہر رام اللہ اور یروشلم کے درمیان لگائے گئے ایک اسرائیلی ناکے پر منعقد ہونا تھی۔ عرب دلہن کو شمالی اسرائیل کے شہر نصیرات سے ناکے پر آنا تھا جبکہ اس کے دلہا کو رام اللہ سے اپنی بارات لیکر اسے ناکے پر آنا تھا۔
صہیونی فوجیوں نے دلہن کو 'ناکا میرج ہال' پہنچنے نہیں دیا۔ تقریبا پچاس فلسطینی باراتیوں کو صوتی بموں اور ہینڈ گرینڈز چلا کر منشتر کیا گیا۔


اس شادی کا اہتمام نسل پرستی کے مظہر ان اسرائیلی قوانین کی مذمت کے لئے کیا گیا تھا جو فلسطینیوں کے باہمی میل جول کی راہ میں مزاحم ہیں۔ یہ شادی 'نسل پرستی کے دور میں پیار' کے عنوان سے چلائی جانے والی مہم کا حصہ تھی۔


گزشتہ برس جنوری میں اسرائیلی سپریم کورٹ نے متنازعہ قانون کو جائز قرار دیا تھا جس کے بموجب اسرائیلی عربوں سے شادی کرنے والے فلسطینیوں کو صہیونی ریاست کی شہریت نہ دینے اور حتی کہ مقبوضہ فلسطین [اسرائیل] میں سکونت اختیار کرنے کی پابندی لگائی تھی۔


مہم کے منتظمین کا کہنا تھا کہ اسرائیلی اقدام بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے کیونکہ اس میں مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں مقیم فلسطینیوں کو دوسرے مقبوضہ عرب علاقوں میں اپنے اہل خانہ سے میل جول کی ممانعت اور انہیں دوسری شہری سہولیات سے محروم کیا جا رہا ہے۔


سن 1993 سے تقریبا ایک لاکھ فلسطینیوں نے اسرائیل میں سکونت کے میرج پرمٹ حاصل کئے، تاہم حالیہ چند دنوں میں ان میں بہت زیادہ کمی آئی ہے۔ اسرائیل کی 1.3 ملین آبادی کا بیس فیصد اسرائیلی عرب ہیں۔ ان میں ڈیڑھ لاکھ وہ فلسطینی ہیں کہ جو 48 میں قیام اسرائیل کے بعد بھی اپنی جگہ پر مقیم رہے۔ اسرائیل کے یہ عرب شہری صہیونی انتظامیہ کی نسلی امتیاز کی پالیسی کا شکار ہیں۔