.

نائیجیریا میں7 یرغمالیوں کی ہلاکت پر مغربی ممالک کا ردعمل

اسلامی گروہ نے یرغمالیوں کو قتل کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی وزیرخارجہ ولیم ہیگ کا کہنا ہے کہ نائیجیریا میں یرغمال بنائے گئے ایک برطانوی تعمیراتی ورکر کو دوسرے چھے غیرملکیوں سمیت ان کے اغوا کاروں نے قتل کردیا ہے۔

ولیم ہیگ نے ان یرغمالیوں کے اندوہناک قتل کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ برطانیہ نائیجیرین حکومت کے ساتھ مل کر واقعے کے ذمے داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے کام کرے گا۔

یونان کی وزارت خارجہ نے بھی اتوار کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ نائیجیریا کے ایک اسلامی گروپ نے ان کے یرغمال بنائے گئے ایک شہری کو ممکنہ طور پر قتل کردیا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ یونانی وزیرخارجہ نے مقتول کی والدہ کو واقعہ کی اطلاع کردی ہے لیکن اس میں مزید تفصیل نہیں بتائی گئی۔البتہ اس میں کہا گیا ہے کہ غیرملکیوں کو اغوا کرنے کی ذمے داری قبول کرنے والے گروپ کا مطالبہ سامنے نہیں آیا تھا۔

اس گروپ کا دعویٰ ہے کہ یرغمالیوں کو برطانوی اور نائیجیرین حکومت کی انھیں رہا کرانے کے لیے کوشش کے ردعمل میں ہلاک کیا گیا ہے لیکن یونانی وزارت خارجہ نے اس کی تردید کی ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ''دستیاب معلومات کے مطابق نائیجیریا میں کوئی ریسکیو آپریشن نہیں کیا گیا تھا۔

اٹلی کی وزارت خارجہ نے بھی آج ایک بیان میں کہا ہے کہ نائیجیریا کے اسلامی گروپ انصارو کی جانب سے یرغمالیوں کو ہلاک کرنے کے دعوے کی تصدیق ہوگئی ہے لیکن یہ دہشت گردی کی خوفناک کارروائی ہے اور اندھے تشدد کے سوا اس کو کوئی اور نام نہیں دیا جاسکتا۔

بیان کے مطابق یرغمالیوں کی بازیابی کے لیے کسی بھی متعلقہ ملک کی جانب سے کوئی فوجی مداخلت نہیں کی گئی تھی۔ان کی ہلاکت نفرت انگیز جنونیت کی مظہر ہے۔

نائیجیریا کے اسلامی گروپ انصارو نے ہفتے کے روزسات گیر ملکی یرغمالیوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔انھیں 16 فروری کو ملک کے شمالی ریاست بوچی میں ایک تعمیراتی جگہ سے اغوا کیا گیا تھا۔نائیجیری پولیس کے مطابق ان میں چار لبنانی ،ایک برطانوی ،ایک یونانی اور ایک اطالوی شہری تھا۔بعد میں تعمیراتی کمپنی کے ایک اہلکار نے کہا تھا کہ ان مشرق وسطیٰ سے تعلق رکھنے والے یرغمالیوں میں دو لبنانی اور دوشامی ہیں۔