.

اسمگلروں کے ساتھ جھڑپ میں تیونسی فوجی کی ہلاکت

تیونس نے لیبیا کے ساتھ سرحدی گذرگاہ بند کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس نے لیبیا کے ساتھ سرحد پرسوموار کو اسمگلروں اور فوجیوں کے درمیان جھڑپ میں ایک فوجی کی ہلاکت کے بعد سرحدی گذرگاہ کو بند کردیا ہے۔

تیونس کے سرکاری ریڈیونے اطلاع دی ہے کہ اتوار کی رات الذهيبة-وازن سرحدی چوکی کے نزدیک مسلح اسمگلروں اور فوج کے درمیان جھڑپ میں تین شہری ۔۔۔۔۔دوتیونسی اور ایک لیبی۔۔۔۔۔۔۔۔بھی زخمی ہوگئے ہیں۔

ریڈیو نے اس واقعے کی مزید تفصیل نہیں بتائی۔تاہم سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ جھڑپ کے بعد سرحدی گذرگاہ الذهيبة-وازن کو بند کردیا گیا ہے۔ یہ دونوں ممالک کے درمیان ایک اہم تجارتی راستہ بھی ہے۔

واضح رہے کہ تیونس اور لیبیا کے درمیان واقع سرحد پر اسمگلروں اور اسلامی جنگجوؤں کی سرگرمیوں کی وجہ سے کشیدگی پائی جارہی ہے۔لیبیا کے ساتھ تجارت تیونسیوں کا اہم ذریعہ معاش ہے۔اگر اس سرحدی گذرگاہ کو زیادہ دیر تک بند رکھا جاتا ہے تو اس سے تیونس میں بدامنی پیدا ہوسکتی ہے۔قبل ازیں جنوری کے آغاز میں ایک اور سرحدی گذرگاہ راس جدیر کئی ہفتے تک بند رہنے سے تیونس کے شہر بن قردان میں پرتشدد ہنگامے اور مظاہرے ہوئے تھے۔

تیونس اور لیبیا دونوں میں 2011ء میں عوامی انقلابات کے نتیجے میں صدر معمر قذافی اور زین العابدین بن علی کی حکومتوں کے خاتمے کے بعد سے سکیورٹی کی صورت حال ابتر چلی ارہی ہے۔خاص طور پر دونوں ممالک کے درمیان سرحدی علاقے میں اسمگلروں کا راج ہے جبکہ اسلامی جنگجو الگ سے اپنی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔