.

افغان پولیس افسر کا ''اندرونی حملہ''،دو امریکی، دو افغان اہلکار ہلاک

جوابی فائرنگ میں حملہ آور مارا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے مشرقی صوبہ وردک میں پولیس ہیڈکوارٹرزمیں ایک پولیس افسر نے فائرنگ کرکے دوامریکی فوجیوں اور دوافغان پولیس اہلکاروں کو ہلاک کردیا ہے جبکہ جوابی فائرنگ میں حملہ آور مارا گیا ہے۔

صوبہ وردک کے ڈپٹی پولیس چیف عبدالرزاق قریشی نے بتایا ہے کہ ''ضلع جلریز میں پولیس کے ایک کمپاؤنڈ میں ایک پولیس افسر ایک پولیس پک ٹرک کے پیچھے مشین گن لے کرکھڑا ہوگیا تھا اور اس نے امریکی اسپیشل آپریشنز فورسز اور افغان پولیس اہلکاروں پر فائرنگ شروع کردی''۔

انھوں نے مزید بتایا کہ حملہ آور نے فائرنگ کرکے دو افغان پولیس اہلکاروں کو ہلاک اور چار کو زخمی کردیا۔زخمیوں میں ضلعی پولیس سربراہ بھی شامل ہے۔بعد میں اس پولیس افسر کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔انھوں نے مزید بتایا کہ پانچ افغان پولیس افسروں کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور ان سے امریکی تفتیش کررہے ہیں۔

افغانستان میں امریکی فوج کے ترجمان جیمی گریبیل نے واقعے میں دوامریکیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ واقعے کی تحقیقات کی جارہی ہے۔نیٹو کے ترجمان نے بین الاقوامی فوجوں پر اندرونی حملے میں دو فوجیوں کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔

واضح رہے کہ فائرنگ کا یہ واقعہ افغان صدر حامدکرزئی کی صوبہ وردک سے امریکا کی خصوصی فورسز کونکلنے کے لیے دی گئی ڈیڈلائن کے خاتمے سے دوروز بعد پیش آیا ہے۔صدر کرزئی نے افغان فوج کو وردک سے نکلنے کے لیے دوہفتے کا وقت دیا تھا اور یہ ڈیڈلائن ہفتے کی شام ختم ہوگئی تھی۔

امریکی فوجیوں پر کابل کے نواح میں واقع صوبہ وردک میں کارروائیوں کے دوران سنگین الزامات عاید کیے گئے ہیں اور انھوں نے جامعات کی تلاشی کے دوران طلبہ سے نازیبا سلوک کیا تھا۔اس کے علاوہ وہ زیرتربیت افغان کمانڈوز کے ساتھ بھی ان کے ناروا سلوک کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ صوبہ وردک میں سکیورٹی برقرار رکھنے کے لیے صدر حامدکرزئی کی تشویش دورکرنے کی غرض سے افغان حکام کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں۔وردک میں تعینات میں امریکی فوجیوں کی اکثریت کا تعلق سپیشل آپریشنز فورسز سے ہے۔

افغان شہریوں کی ہلاکت

سوموار کودارالحکومت کابل کے نواح میں ایک اور واقعہ میں امریکی فوجیوں نے دوافغان شہریوں کو گولی مار کر ہلاک کردیا ہے۔ افغان وزارت داخلہ کے ترجمان صدق صدیقی نے بتایا ہے کہ امریکی فوج کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے دونوں افغان ایک کمپنی کے ملازم تھے جو پولیس کی گاڑیوں کی مرمت کرتی ہے۔

امریکی فوج کے ترجمان جیمی گریبیل کا کہنا ہے کہ گاڑی کو رکنے کا اشارہ کیا گیا تھا لیکن ڈرائیور نے اسے روکا نہیں اور وہ کابل کے نواح میں امریکی فوج کے قافلے کے قریب پہنچ گئی تھی۔اس کے بعد ''فوجیوں نے اپنے تحفظ کے لیے مناسب اقدام کیا ہے''۔ترجمان نے دوافراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ واقعہ کی تحقیقات کی جا رہی ہے۔