.

القاعدہ کا عراق میں 48 شامی فوجیوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ

علاج کے لیے آنے والے شامی فوجیوں پر الانبار میں حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں القاعدہ سے وابستہ گروپ(ریاست اسلامی عراق) نے مغربی صوبہ الانبار میں ایک ہفتہ قبل اڑتالیس شامی فوجیوں اور نو عراقی محافظوں پر مشتمل قافلے پر حملے اور انھیں ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

عراقی کی وزارت دفاع کے ایک بیان کے مطابق شامی فوجی عراق میں علاج معالجے کے لیے آئے تھے۔وہ مغربی صوبہ انبار کے راستے سے 4مارچ کو واپس جارہے تھے کہ اس دوران مسلح جنگجوؤں نے ان پر حملہ کردیا تھا۔

اس حملے کے بعد وزارت دفاع نے شام کے تمام فریقوں کو خبردار کیا تھا کہ وہ اپنی مسلح آویزش کو عراق میں لانے اور اس کی سرحدوں کی خلاف ورزی سے گریز کریں۔بیان میں شامی دراندازوں پر حملے کا الزام عاید کیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ اس کا ردعمل سخت اور فیصلہ کن ہوگا۔

واضح رہے کہ عراق کے مغربی صوبہ الانبار کے نزدیک واقع الرطبہ کے صحرا میں مسلح افراد نے اڑتالیس شامی فوجیوں کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا تھا۔یہ خونریز واقعہ عراق کی مسلح افواج کے شام کے اندر جیش الحر کے ٹھکانوں پر بمباری کے چند روز بعد پیش آیا تھا۔

عراقی حکام کا کہنا تھا کہ شام کے پینسٹھ فوجیوں اور سرکاری عہدےداروں نے جمعہ یکم مارچ کو خود کو حکام کے حوالے کیا تھا۔ان پر حملے میں چھے عراقی فوجی بھی مارے گئے تھے۔اب القاعدہ نے ان کی تعداد نو بتائی ہے۔

شامی باغیوں نے عراق اور شام کے درمیان واقع سرحدی گذرگاہ اليعربية پر قبضہ کررکھا ہےاور سرحد کے دوسری جانب شامی باغیوں کے کنٹرول کے بعد شامی فوجی عراق کے علاقے کی جانب آ گئے تھے۔القاعدہ نے انٹرنیٹ پر سوموار کو جاری کی گئی ایک ویڈیو میں ان کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔