.

امریکی دباﺅ مسترد،” امن پائپ لائن“ منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ دیا

پاکستان کی جانب سے افتتاح 'بڑی تقریب' قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی شدید مخالفت اور ممکنہ پابندیوں کی دھمکی کے باوجود، پاکستان کے صدر آصف زرداری اور ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے دونوں ملکوں کے درمیان گیس پائپ لائن کے پاکستانی حصے کی تعمیر کا افتتاح کر دیا ہے۔


پاکستانی صدر کے دفتر سے جاری ایک بیان میں اس افتتاح کو ایک بڑی تقریب قرار دیا گیا ہے جو ایران کے شہر چابہار میں ہوئی۔ اس موقع پر دونوں صدور کے علاوہ وزراء اور اعلیٰ حکام موجود تھے، جن میں عرب ممالک کے نمائیندے بھی شامل تھے۔ اس منصوبے سے ملک میں توانائی کا بحران کم کرنے میں مدد ملے گی اور اقتصادی ترقی میں مدد مل سکے گی۔


منصوبے کی افتتاحی تقریب میں شرکت کیلئے صدر آصف علی زرداری نے ایران کا دورہ کیا اور اہم افراد سے ملاقات کی ۔ صدارتی ترجمان فرحت اللہ بابر نے کہا کہ صدر کے ہمراہ کئی اہم شخصیات بھی ایرانی دورے میں شامل ہیں۔

پاکستان اور ایران کے درمیان اس منصوبے سے یومیہ 75 کروڑ مکعب فیٹ گیس کی درآمد کے لیے ایرانی کمپنی پاک ایران بارڈر سے پاکستان میں نواب شاہ تک سات سو اسّی کلومیٹر طویل پائپ لائن تعمیر کرے گی۔


میڈیا رپورٹس کے مطابق، صدر آصف علی زرداری امریکی دباؤ کے باوجود اس گیس پائپ لائن منصوبے کو پاکستان کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اہم قرار دیا ہے۔


اس منصوبے کے تحت دس دسمبر 2014ء تک پاکستان کو ایران سے گیس کی فراہمی شروع ہو جائے گی۔ صدر زرداری اپنے ایک روزہ ایرانی دورے کے موقع پر گوادر میں چار لاکھ بیرل تیل یومیہ صاف کرنے والی آئل ریفائنری کے معاہدے پر بھی دستظ کریں گے۔


یاد رہے کہ امریکا کی طرف سے اس منصوبے پر متعدد بار تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا، اور کئی مرتبہ پاکستان کو عالمی پابندیوں کی دھمکیاں بھی دی گئی، لیکن پاکستان نے تمام عالمی دباؤ کے باوجود اس منصوبے کو ترک کرنے سے انکار کیا ہے۔


امریکا کا اصرار ہے کہ پاکستان کے پاس توانائی بحران کم کرنے کے دیگر راستے بھی موجود ہیں جن میں ترکمانستان کے گیس فیلڈ سے افغانستان کے راستے گیس پائپ لائن بھی شامل ہے۔


امریکی خبر رساں ایجنسی 'اے پی' نے کہا ہے کہ اگر پاکستان پر کسی قسم کی پابندیاں عائد نہیں کی گئیں تب بھی اسے منصوبہ مکمل کرنے کیلئے ڈیڑھ ارب ڈالر کی رقم درکار ہوگی۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ ایران اس منصوبے کیلئے پاکستان کو 50 کروڑ ڈالر کا قرضہ فراہم کرے گا۔


افتتاحی تقریب کے بعد صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ گیس پائپ لائن پاکستان کے لیے بہت اہم ہے،عالمی برادری کو مشکلات کا درست ادراک نہیں دوسری جانب ایران کے صدر محمود احمدی نژاد کا کہنا تھا کچھ عناصرپاکستان اور ایران کی ترقی کے خلاف ہیں۔


صدر زرداری نے کہا کہ دنیا کا امن پاکستان کے امن سے منسلک ہے ۔ پاکستان کسی کے خلاف نہیں اور ہم سب کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔
صدر محمودی احمد نژاد نے کہا ہے کہ آج کا دن دونوں ممالک کیلئے تاریخی ہے ۔ انہوں نے پاکستان کو ایک عظیم ملک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران زراعت میں بھی پاکستان کی مدد کرسکتا ہے۔

ادھر امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی ترجمان، وکٹوریہ نولینڈ نے وارننگ دی ہے کہ اگر یہ معاہدہ طے پاتا ہے تو اس سے ایران پابندیوں کے ایکٹ کے تحت سنگین اعتراضات پیدا ہوسکتے ہیں۔"ہم نے پاکستانی ہم منصب پر واضح کرچکے ہیں اور دوبارہ یہ کہنا چاہتے ہیں ایران نے بار بار یہ ثابت کردکھایا ہے کہ وہ قابلِ اعتبار ساتھی نہیں۔"