.

دہلی گینگ ریپ کیس کے اہم ملزم نے خودکشی کر لی

رام سنگھ تہاڑ جیل میں بند تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

نئی دہلی میں گزشتہ برس دسمبر میں ایک چلتی بس میں 23 سالہ لڑکی کی اجتماعی آبروزیری اور قتل کے الزام میں قید ایک اہم ملزم میں جیل میں خودکشی کر لی ہے۔ پولیس نے اس ملزم کی موت کی تصدیق کر دی ہے۔

خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق اس ملزم نے جیل کے اندر خود کو پھندہ لگا کر قتل کر دیا۔ نئی دہلی میں قائم تہاڑ جیل کے کنٹرول روم میں موجود ایک افسر نے خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کو بتایا کہ رام سنگھ نے خود کو ہلاک کر دیا ہے۔ گزشتہ برس پیش آنے والے اس واقعے کے بعد پانچ افراد کو حراست میں لیا گیا تھا، جن میں سے رام چند اہم ترین تھا۔ اس واقعے کے بعد نئی دہلی سمیت بھارت بھر میں سڑکوں پر بڑے مظاہرے ہوئے تھے، جن میں ملزمان کو سخت سزائیں دینے اور خواتین کو تحفظ فراہم کرنے کے مطالبے کیے گئے تھے۔

دسمبر 2012ء کی شب ایک چلتی بس میں ایک نوجوان طالبہ کو اجتماعی جنسی زیادتی اور تشدد کرنے کے بعد چلتی بس سے ہی باہر پھینک دیا گیا تھا، اس لڑکی کے ساتھ ساتھ اس کے ساتھ موجود اس کے دوست کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس لڑکی کو انتہائی زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جب کہ بعد میں اسے بہتر علاج کے لیے سنگاپور بھی بھیجا گیا تھا، تاہم یہ لڑکی زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسی۔ رام سنگھ اسی بس کا ڈرائیور تھا۔ حکام کے مطابق رام سنگھ نے پیر کی صبح جیل میں اپنی جان لے لی۔

اس لڑکی کے دوست نے بعد میں ایک مقامی ٹی وی چینل پر واقعے کی تفصیلات بتائے ہوئے کہا تھا کہ بس سے باہر پھینک دیے جانے کے بعد وہ کافی دیر تک آس پاس سے جاتے لوگوں کو مدد کے لیے پکارتے رہے، تاہم کوئی ان کی مدد کو نہ آیا۔ اس واقعے کے بعد بھارت میں خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کی روک تھام کے لیے حکومتی اقدامات کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ملک میں نئے قوانین روشناس کرانے کے مطالبات بھی کیے جاتے رہے ہیں۔