.

لیبیا: زہریلی دیسی شراب پینے سے 38 افراد کی ہلاکت

دارالحکومت طرابلس میں 378 افراد کی حالت غیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں گھر میں کشید کی گئی دیسی شراب پینے سے دو روز میں اڑتیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں اور تین سو اٹھہتر کی حالت غیر بتائی جاتی ہے۔

لیبیا کی وزارت صحت کے ترجمان عمار محمد عمار نے سوموار کو ایک بیان میں بتایا ہے کہ ''دیسی شراب پینے سے مزید بائیس افراد جان کی بازی ہارگئے ہیں اور اب دو روز میں ہلاکتوں کی تعداد اڑتیس ہوگئی ہے۔زہریلی شراب سے متاثر ہونے والوں کی تعداد بھی بڑھ کر تین سو اٹھہتر ہوگئی ہے''۔

اس سے پہلے اتوار کو وزارت صحت نے گھریلو ساختہ زہریلی شراب پینے سے مرنے والوں کی تعداد سولہ بتائی تھی اور اس سے کل تین سو دس افراد متاثر ہوئے تھے جو طرابلس کے اسپتالوں میں زیرعلاج ہیں۔

طرابلس طبی مرکز کے شعبہ صحت کے سربراہ یوسف الوافی نے متاثرہ افراد کے ابتدائی ٹیسٹوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ مے نوشی کرنے والوں میں میتھانول زہرکی موجودگی کی علامات پائی گئی ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ انیس سے پچاس سال کی عمر کے درمیان زہریلی شراب پینے والوں کے گردے جواب دے سکتے ہیں،وہ اندھےپن کا شکار ہوسکتے ہیں،انھیں دل کا دورہ پڑسکتا ہے اور ممکنہ طور پر ان کی موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔

واضح رہے کہ لیبیا میں شراب کا استعمال اور فروخت ممنوع ہے مگر یہ بلیک مارکیٹ میں دستیاب ہے اور لوگ گھروں میں بھی شراب کشید کرکے استعمال کررہے ہیں لیکن یہ دیسی شراب تھوڑی سی بے احتیاطی سے زہرآلود ہوجاتی ہے اور اس کے استعمال سے آئے دن کسی نہ کسی ملک میں بیسیوں کی تعداد میں لوگوں کی ہلاکتیں رپورٹ ہوتی رہتی ہیں۔

لیبیا میں 2011ء میں عوامی انقلاب کے نتیجے میں سابق صدر معمرقذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے اس ملک کی بین الاقوامی سرحدیں غیر محفوظ ہوچکی ہیں اور تب سے وہاں منشیات اور شراب کی اسمگل میں نمایاں اضافہ ہواہے۔