.

مرسی کی قیادت میں منی گورنمنٹ کی تجویز قابل غور ہے: مشیر

اخوانی کارکنوں کو ملازمتیں دینے کا الزام مسترد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری صدر کے مشیر ڈاکٹر ایمن علی کا کہنا ہے کہ کانگریس پارٹی کے سربراہ عمرو موسی کی جانب سے پیش کردہ اس تجویز پر تبادلہ خیال کیا جا سکتا ہے جس میں انہوں نے خیال ظاہر کیا ہے کہ ڈاکٹر محمد مرسی منی گورنمنٹ کی قیادت کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ النور پارٹی کے یونس مخیون کے اس الزام میں کوئی صداقت نہیں ہے کہ ملک کے تقریبا تیرہ ہزار اہم عہدے اخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والے افراد کو دیئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونس مخیون کے پاس اس سلسلے میں کوئی معلومات ہیں تو وہ انہیں رائے عامہ کے سامنے پیش کریں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے۔ اگر مصری صدر نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے انہیں کا خمیازہ بھگتنا چاہئے۔
اس سے قبل مصری جماعت کانگریس کے سربراہ عمرو موسی اور نیشنل سالویشن فرنٹ کے اہم رکن نے مصر کو حالیہ بحران سے نکالنے کے لئے نیشنل یونٹی گورنمںٹ کے قیام کی تجویز پیش کی تھی کیونکہ عمرو موسی کے بہ قول موجودہ حکومت مصری تاریخ کے شدید بحران سے نبرد آزما ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتی ہے۔
عمرو موسی نے تجویز پیش کی تھی کہ صدر محمد مرسی بیک وقت وزیر اعظم اور صدر کا عہدہ اپنے پاس رکھیں اور وہ اس حیثیت میں ٹینکوکریٹ حکومت کی قیادت کر سکتے ہیں جو مقررہ مدت کے لئے تفصیلی روڈ میپ پیش کرے تاکہ ملک کو بحران سے نکالا جا سکے۔