.

بجٹ کٹوتیوں سے امریکی سراغرسانی کارروائیوں کے لیے خطرہ

اپوزیشن ابھی تک غیرمنظم ہے:جیمز کلیپر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے نیشنل انٹیلی جنس چیف جیمز کلیپر کا کہنا ہے کہ سراغرسانی کی کارروائیوں کے لیے بجٹ کٹوتیوں سے ملک کے لیے خطرات پیدا ہوسکتے ہیں کیونکہ ان کے بہ قول اس وقت امریکا کو شام میں کیمیاوی ہتھیاروں ،ایران میں جوہری ہتھیاروں اور شمالی کوریا میں جارح رجیم کے علاوہ اندرون ملک سائبر سکیورٹی ایسے ایشوز کا سامنا ہے۔

مسٹر جیمز کلیپر نے امریکی سینیٹ کی سلیکٹ انٹیلی جنس کمیٹی کے اجلاس میں بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ بجٹ میں کٹوتی انٹیلی جنس کمیونٹی کے لیے ایک بڑی تشویش کی وجہ ہے۔انھوں نے کہا کہ بجٹ کی کمی کے پیش نظر ہزاروں تجزیہ کاروں ،کنٹریکٹروں اور ایف بی آئی کے لیے خدمات انجام دینے والے ملازمین سے محروم ہونا پڑے گا۔اس طرح امریکا ایک حملے کے ابتدائی اشارے سے محروم ہونے کا خطرہ مول لے گا۔

جیمز کلیپر نے اس ضمن نے امریکی معیشت پر حال ہی میں بڑے پیچیدہ سائبر حملوں کا حوالہ دیا اور کہا کہ روس اور چین فوجی تنازعے سے ماورا کوئی بڑا سائبر حملہ نہیں کرسکتے لیکن الگ تھلگ ریاست یا غیرریاستی اداکار قدرے کم درجے کے پیچیدہ سائبر حملے کرسکتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ یہ سائبر حملے ممکن ہے کم مربوط ہوں لیکن اس طرح کے چھوٹۓ حملوں کے بڑے مضمرات ہوسکتے ہیں اور ان سے امریکا میں پاور گرڈز اور دوسرے نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔

جیمز کلیپر نے اپنے بیان میں امریکا کو بیرون ملک درپیش چیلنجز کا بھی ذکر کیا اور خاص طور پر شام کے حوالے سے اپنی جائزہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف بروئے کار حزب اختلاف ابھی تک منتشر اور غیرمنظم ہے۔

ان کے بہ قول شام کی مسلح اپوزیشن ترکی کی سرحد کے ساتھ اپنے علاقے میں اپنے اڈے قائم کرنے کی کوشش کررہی ہے لیکن جنگجوؤں کی سیکڑوں بٹالینز کی وجہ سے القاعدہ سے وابستہ تنظیم النصرۃ محاذ کو اپنے قدم جمانے کا موقع مل رہا ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ حزب اختلاف میں عدم تنظیم کے باوجود شامی رجیم کا مستقبل تابناک نہیں ہے۔ان سے جب پوچھا گیا کہ بشارالاسد کی حکومت کا خاتمہ کب تک ہوجائے گا تو ان کا کہنا تھا کہ شامی صدر کے دن گنے جاچکے ہیں لیکن فی الوقت ہم یہ نہیں جانتے کہ یہ دن کتنے ہیں۔

مسٹر جیمز کلیپر نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اگر بشارالاسد کی حکومت کا خاتمہ ہوجاتا ہے تو اس کے بعد بین الاقوامی تشویش میں بھی اضافہ ہوگا اور انٹیلی جنس کے لیے تشویش کی بڑی وجہ یہ ہے کہ شامی حکومت اپنی ڈوبتی ہوئی ناؤ کو بچانے کے لیے آخری حربے کے طور پر اپنے ہی لوگوں پر کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کرسکتی ہے۔اس کے علاوہ النصرۃ محاذ اور دوسرے غیرملکی جنگجوؤں کی شام آمد کے بعد کیمیائی ہتھیار محفوظ نہیں رہیں گے اور یہ ہتھیار ان گروپوں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں۔

امریکا کے قومی انٹیلی جنس کے سربراہ نے ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے بھی اظہار خیال کیا اور بتایا کہ حالیہ انٹیلی جنس رپورٹس سے ایسے اشارے ملے ہیں کہ ایران نے جوہری بم تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کر لی ہے۔البتہ یہ بات غیر واضح ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے جوہری ہتھیار تیار کرنے کے لیے اپنی رضامندی ظاہر کردی ہے یا نہیں۔