.

بھارتی کشمیر میں جنگجوؤں کی کارروائی، 5 پولیس اہلکار ہلاک

حملہ آور پاکستان سے آئے تھے: سیکرٹری داخلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت کے زیر تسلط کشمیر میں عسکریت پسندوں نے بدھ کے روز نیم فوجی دستوں کے ایک کیمپ پر حملہ کر دیا۔

پولیس کے مطابق اس حملے کے نتیجے میں سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے پانچ سپاہی ہلاک ہو گئے۔ جوابی کارروائی میں دونوں حملہ آوروں کو بھی ہلاک کر دیا گیا۔ اِس واقعے میں دَس افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے پانچ عام شہری ہیں جبکہ دیگر پانچ کا تعلق سینٹرل ریزرو پولیس فورس ہی سے ہے۔ ابھی تک کسی نے بھی اس حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔

بھارت کے سیکرٹری داخلہ آر کے سنگھ نے اس حملے کے لیے پاکستان کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ اس حملے کی پشت پر پاکستان ہے کیونکہ بہ ظاہر شواہد اسی جانب اشارہ کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ بادی النظر میں یہ شدت پسند سرحد پار سے آئے تھے۔ شاید وہ پاکستان سے آئے تھے۔ ہمیں یہ اطلاعات تھیں کہ چار شدت پسند داخل ہوئے ہیں۔ ان میں سے دو تو اب ہلاک ہو چکے ہیں۔ ہم نے تمام یونٹوں کو ہوشیار کر دیا ہے۔

آے کے سنگھ نے کہا کہ جو دو شدت پسند فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں وہ بھی مبینہ طور پر پاکستان سے آئے ہیں۔ ان چاروں کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ ان کا تعلق لشکر طیبہ سے ہے۔

سری نگر میں گذشتہ کچھ عرصے سے اس طرح کے حملے بند تھے اور ریاست میں سی آر پی ایف قانون کے نفاذ میں ریاستی پولیس کی مدد کر رہی تھی۔