.

تیونس: پارلیمان میں النہضہ کی قیادت میں نئی کابینہ کی منظوری

نئے وزیراعظم کا سکیورٹی اورمعیشت کو بہتر بنانے کا عزم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس کی قومی دستورساز اسمبلی نے اسلامی جماعت النہضہ کے وزیراعظم علی العریض کی قیادت میں نئی کابینہ کی کثرت رائے سے منظوری دے دی ہے۔

تیونس کی پارلیمان میں نئی کابینہ پر منگل کو اعتماد کے ووٹ کے لیے رائے شماری ہونا تھی لیکن اس کو بدھ تک موخر کردیا گیا۔کل کے اجلاس میں وزیراعظم علی العریض نے اسمبلی میں کابینہ کے وزراء کی فہرست پیش کی تھی اور وزارتی بیان پڑھا تھا جس میں انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ''وہ سکیورٹی کی صورت حال بہتر بنائیں گے،مہنگائی کو روکنے کے لیے اقدامات کریں گے اور ملکی معیشت کو بحال کریں گے''۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی حکومت تیونس کے سیاسی وژن کی بہتری کے لیے اقدامات کرے گی،آیندہ عام انتخابات کے انعقاد کے لیے حالات کو بہتر بناکر استحکام لائے گی اور اصلاحات پر عمل درآمد جاری رکھے گی۔

النہضہ سے تعلق رکھنے والے وزیراعظم علی العریض نے گذشتہ جمعہ کو اپنی نئی کابینہ کا اعلان کیا تھا۔ان کی قیادت میں نئی حکومت میں دائیں بازو کی جماعت التكتل اور صدر منصف مرزوقی کی سیکولر کانگریس برائے ری پبلک شامل ہیں۔یہ تینوں جماعتیں مستعفی وزیراعظم حمادی جبالی کی قیادت میں کابینہ میں بھی شامل تھیں۔

النہضہ نئی کابینہ میں متعدد اہم وزارتوں سے دستبردار ہوگئی ہے اور اب اس کے عہدے داروں کی جگہ آزاد شخصیات کو یہ وزارتیں سونپی گئی ہیں۔تجربہ کار سفارت کار عثمان الجرندی کو وزیرخارجہ ،لطفی بن جدو کو وزیرداخلہ اور رشيد الصباغ کو وزیردفاع بنایا گیا ہے۔ التكتل سے تعلق رکھنے والے الياس الفخفاخ کو دوبارہ وزارت خزانہ کا قلم دان سونپا گیا ہے۔

عثمان جرندی اقوام متحدہ میں تیونس کے سابق سفیر تھے۔ان کے بین الاقوامی اداروں اور مغرب کے ساتھ مضبوط تعلقات بتائے جاتے ہیں۔بن جدو اور رشيد الصباغ دونوں سابق جج ہیں۔بن جدو سابق صدر زین العابدین بن علی کے خلاف عوامی احتجاجی مظاہروں کے دوران بیسیوں نوجوان مظاہرین کی ہلاکتوں کی تحقیقات کرنے والے کمیشن میں شامل رہے تھے۔

تیونس کے سابق وزیراعظم حمادی جبالی 6فروری کو حکومت مخالف سیکولر سیاست دان شکری بلعید کے قتل کے ردعمل میں ملک بھر میں پرتشدد مظاہروں کے بعد مستعفی ہوگئے تھے۔ تجزیہ کاروں کے بہ قول پارلیمان میں نئی کابینہ پر اظہار اعتماد کے بعد اتھل پتھل کا شکار ملک میں جاری سیاسی بحران کے خاتمے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔