.

جرمنی میں کٹڑ سلفیوں کے تین گروپوں پر پابندی عاید

سلفی تنظیموں کی کڑی نگرانی کے بعد حکومت کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمنی میں حکومت نے راسخ العقیدہ سلفیوں کی تین تنظیموں پر جمہوریت کو تہ وبالا کرنے اور شریعت کے نفاذ کے لیے جدوجہد کے الزام میں پابندی عاید کردی ہے۔

جرمن وزارت داخلہ نے بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے تین تنظیموں دعوہ ایف ایف ایم ،اسلامش آڈیوزاور النصرۃ پر پابندی عاید کی ہے جو آج صبح سے نافذالعمل ہوگئی ہے۔موخر الذکر تنظیم کا تعلق ملت ابراہیم گروپ سے بتایا گیا ہے۔اس تنظیم پر جرمن وزارت داخلہ نے گذشتہ سال جون میں پابندی عاید کردی تھی۔

سلفی مسلمانوں کی یہ تینوں تنظیموں جرمنی کی دو ریاستوں ہیس اور نارتھ رہین ویسٹ پھالیا میں کام کررہی تھیں۔پولیس نے ان مسلم تنظیموں کے دفاتر پر چھاپے بھی مارے ہیں اور ان کے اثاثے ضبط کر لیے گئے ہیں۔

جرمن وزیرداخلہ پیٹر فریڈریچ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''سلفی ازم (سلفیت) ہمارے آزاد جمہوری آرڈر سے کوئی لگا نہیں کھاتا۔ جن گروپوں پر پابندی عاید کی گئی ہے،وہ جارحانہ انداز میں ہمارے معاشرے کو تبدیل کرنا چاہتے تھے تاکہ جمہوریت کی جگہ سلفیت کو لے آیا جائے اور قانون کی حکمرانی کی جگہ شرعی قانون (شریعت) کو نافذ کردیا جائے''۔

واضح رہے کہ جرمنی میں چالیس لاکھ کے لگ بھگ مسلمان آباد ہیں۔ان میں سلفیوں کی تعداد چار ہزار کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے۔اس طرح مسلمانوں میں ان کا تناسب آٹے میں نمک کے برابر ہے۔اب اس صورت حال میں یہ جرمن حکام ہی بتاسکتے ہیں کہ سلفی اتنی کم تعداد کے ساتھ شریعت کے نفاذ یا سلفیت کے پرچار میں کیونکر کامیاب ہوسکتے تھے۔

تاہم وزیر داخلہ فریڈریچ کا کہنا ہے کہ سلفی گروپوں پر پابندی کا فیصلہ چانسلر اینجیلا مرکل کی حکومت کی جرمنی میں پرامن مسلمانوں کی بڑی تعداد کے ساتھ رواداری اور احترام پر مبنی تعلقات کے فروغ کے لیے اقدامات کا حصہ ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ سال جرمنی کے مغربی شہروں کولون اور بون کے نواح میں پولیس اور سلفیوں کے درمیان متعدد مرتبہ پرتشدد جھڑپیں ہوئی تھیں۔اس ہنگامہ آرائی کے تناظر میں اس خدشے کا بھی اظہار کیا گیا تھا کہ ملک میں مسلم نوجوانوں میں عسکریت پسندی فروغ پا سکتی ہے۔