.

شامی اپوزیشن اتحاد کے سربراہ معاذ الخطیب کے استعفی کی خبریں

حکومت مخالف وسیع البنیاد عبوری حکومت بنانے کو تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی اپوزیشن اتحاد کے سربراہ ڈاکٹر معاذ الخطیب الائنس میں شامل دیگر جماعتوں کے ساتھ اختلافات کی بنا پر اپنے عہدے سے استعفی دینے کے بارے میں غور کر رہے ہیں۔

لندن سے شائع ہونے والے عرب روزنامہ 'الحیات' نے شامی اپوزیشن ذرائع کے حوالے سے بتایا شامی نیشنل الائنس کے جنرل سیکرٹری مصطفی الصباغ نے اتحاد کے سربراہ معاذ الخطیب کے نام اپنے خط میں ان پر زور دیا کہ وہ عبوری حکومت کی تشکیل لازمی کریں۔ یاد رہے کہ معاذ الخطیب ایک بیان میں عبوری حکومت کو اتحاد کی تقسیم کا موجب قرار دے چکے ہیں۔

مصطفی الصباغ نے مارچ کے اواخر میں قطر میں ہونے والے عرب لیگ کے سربراہی اجلاس اور تنظیم میں اپوزیشن کی نمائندگی کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا عرب وزراء خارجہ کے فیصلوں کی روشنی میں ایسا کرنا ضروری ہے تاکہ فورم کی رکنیت کے بعد سیاسی، اعلامی اور سفارتی لحاظ سے حاصل ہونے والے اطیمنان سے بھرپور استفادہ کیا جا سکے۔

ادھر فرانسیسی وزیر خارجہ لوران فابیوس نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی اور فرانسیسی عہدیدار روس کی معیت میں ایک ایکشن پلان تیار کر رہے ہیں جو شام کے حکومتی عہدیداروں اور اپوزیشن کے نیشنل الائنس دونوں کے لئے قابل قبول ہو۔

درایں اثنا امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے بتایا ہے کہ شامی اپوزیشن تمام حکومت مخالف حلقوں پر مشتمل نمائندہ حکومت کی تشکیل کے لئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اپوزیشن اور شامی حکومت عبوری حکومت تشکیل دینے کی خاطر مل بیٹھیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ شامی اپوزیشن عوام کی بہبود کے مشن سے روگرانی کو تیار نہیں۔ اس مقصد کے لئے وہ تمام شامیوں کی نمائندہ حکومت کی تشکیل کے لئے تیار ہے۔ اس کے لئے قتل غارت گری روکنا ہو گی۔ دنیا اور اپوزیشن سب یہی چاہتے ہیں۔ امریکا چاہتا ہے کہ بشار الاسد اور اپوزیشن عبوری حکومت تشکیل دینے کی خاطر مذاکرات کا آغاز کریں۔ بہ قول جان کیری یہی بات جینوا معاہدے میں بیان کی گئی ہے کہ عبوری حکومت کی تشکیل کے لئے دونوں فریقوں کا اتفاق ضروری ہے۔