.

کرد باغیوں کے زیرحراست 8 ترک یرغمالیوں کی رہائی

عبداللہ اوکلان سے ترک حکومت کے مذاکرات میں پیش رفت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے جنوب میں فوج سے برسرپیکار کرد باغیوں کی جماعت کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) نے آٹھ ترک یرغمالیوں کو دو سال تک پس دیوار زنداں رکھنے کے بعد رہا کر دیا ہے۔

کرد باغیوں نے ان ترکوں کو شمالی عراق میں یرغمال بنا رکھا تھا اور انھیں بدھ کو ترکی سے آنے والے ایک وفد کے حوالے کیا گیا ہے۔اس وفد میں شامل کرد نواز امن اور جمہوری پارٹی (بی ڈی پی) کے رکن حسام الدین زندرلی اوغلو نے بتایا ہے کہ ان قیدیوں کو بحفاظت ہمارے حوالے کر دیا گیا ہے۔

رہائی پانے والے افراد میں ترکی کے سکیورٹی افسر اور سرکاری ملازمین شامل ہیں۔ترکی میں جیل میں قید کرد باغیوں کے لیڈر عبداللہ اوکلان نے انھیں رہا کرنے کی اپیل کی تھی اور انھوں نے گذشتہ ماہ بی ڈی پی کے ارکان پارلیمان پر مشتمل وفد کے جیل کے دورے کے موقع پر ان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ''قیدی بہت جلد اپنے خاندانوں سے مل جائیں گے''۔

قبل ازیں کرد باغیوں نے ایک بیان میں کہا کہ وہ آٹھ ترک یرغمالیوں کو رہا کرکے کردنواز جماعت کے ارکان کے وفد کے حوالے کررہے ہیں اور انھیں ترک حکومت اور کردباغیوں کے درمیان امن کے لیے نئے مذاکرات کے حصے کے طور پر چھوڑا جارہا ہے۔

ترک حکومت نے بھی ان کی رہائی کے لیے بات چیت کی تصدیق کی ہے۔ترکی کے نائب وزیراعظم بصیر عطالے نے کہا کہ اس اقدام کو جذبہ خیرسگالی کا اظہار سمجھا جانا چاہیے۔انھوں نے ان قیاس آرائیوں کو مسترد کردیا کہ حکومت نے ان افراد کی رہائی کے لیے باغیوں کو کوئی خفیہ رعایتیں دی ہیں۔

واضح رہے کہ عبداللہ اوکلان اور تر ک حکومت کے درمیان گذشتہ سال کے آخر میں امن مذاکرات بحال ہوئے تھے اور ان کا مقصد گذشتہ تین عشروں سے جاری شورش کا خاتمہ ہے۔کرد باغیوں نے 1984ء سے انقرہ حکومت کے خلاف ہتھیار اٹھا رکھے ہیں اور ان کی مسلح بغاوت اور ترکی کی سکیورٹی فورسز کے ساتھ لڑائی میں پینتالیس ہزار سے زیادہ افراد مارے جاچکے ہیں۔عبداللہ اوکلان کو غداری کے جرم میں چودہ سال قید کی سزاسنائی گئی تھی۔توقع ہے کہ وہ کالعدم پی کے کے کے جنگجوؤں کو 21 مارچ سے کردوں کے نئے سال کے آغاز پر جنگ بندی کی پاسداری کے لیے کہیں گے۔