.

کوئٹہ: دہشت گردی میں استعمال ہونے والے بچوں کا گروہ گرفتار

دھماکا خیزمواد، بارودی سرنگیں اور اسلحہ برآمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں پولیس نے بچوں پر مشتمل دہشت گردوں کے ایک گینگ کو پکڑنے کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ کوئٹہ میں متعدد بم دھماکوں میں ملوث ہیں۔

کیپیٹل سٹی پولیس افسر زبیر محمود نے بدھ کو عجلت میں بلائی گئی ایک نیوزکانفرنس میں بتایا ہے کہ کوئٹہ کے نواح میں منگل کی رات ایک کارروائی کے دوران پولیس نے دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث گیارہ بچوں کو گرفتار کیا ہے۔ان کی عمریں گیارہ سے اٹھارہ سال کے درمیان ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ پولیس کی کارروائی کے دوران ایک بلوچ علاحدگی پسند گروپ سے تعلق رکھنے والے آٹھ جنگجو فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔تمام بچے غریب اور پسماندہ خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

ان کے بہ قول گرفتار کم سن بچوں نے دس سے زیادہ بم دھماکوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے۔انھیں ایک بم دھماکے کے لیے دوہزار سے پانچ ہزار روپے تک دیے جاتے تھے۔ان کے بہ قول ان بچوں کو کوئٹہ کی پُرہجوم جگہوں میں بم دھماکوں کے لیے استعمال کیا جارہا تھا۔

گرفتار کیے گئے بچوں نے 10 جنوری کو میزان چوک میں بم دھماکے میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے۔اس بم دھماکے میں فرنٹئیرکور کے تین اہلکاروں سمیت بارہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔اس بم حملے میں فرنٹئیرکور کی ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا تھا اور یونائیٹڈ بلوچ آرمی نامی مسلح گروپ نے اس بم دھماکے کی ذمے داری قبول کی تھی۔

سی سی پی او کوئٹہ کے مطابق دوران تفتیش بچوں نے بتایا کہ انھیں شرپسند عناصر بم اوردھماکا خیز مواد پُرہجوم مقامات پررکھنے کے لیے دیتے تھے۔پولیس نے ان بچوں کے ٹھکانے سے بارودی سرنگیں ،دھماکا خیز مواد اور دوسرا اسلحہ برآمد کیا ہے۔