.

ارجنٹائن کے جارج ماریو برگوگلیونئے پاپائے روم منتخب

سفید دھواں برآمد،سینٹ پیٹرز باسلیکا کی گھنٹیاں بج اٹھیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ویٹی کن سٹی میں سسٹین چیپل کی چمنی سے بالآخر سفید دھواں نکل آیا ہے اور ارجنٹائن کے کارڈینل جارج ماریو برگوگلیو کو رومن کیتھولک کا نیا روحانی پیشوا منتخب کر لیا گیا ہے۔

پوپ برگوگلیو بیونس آئرس سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کی عمر 76برس ہے۔انھوں نے اب اپنا نام پوپ فرانسیس اختیار کر لیا ہے۔وہ یہ نام اختیار کرنے والے رومن کتھولک کے پہلے روحانی پیشوا ہیں اور وہ جنوبی امریکا سے تعلق رکھنے والے پہلے پاپائے روم ہیں۔

پوپ فرانسیس اپنے نام کا اعلان ہونے کے بعد سینٹ پیٹرز باسلیکا کی بالکونی سے برآمد ہوئے ۔انھوں نے سفید کپڑے زیب تن کررکھے تھے اور اطالوی زبان مین اپنے پہلے مختصر خطاب میں کہا کہ ''آئیے ہم سب مل کر ایک دوسرے کے لیے دعا کریں اور یہ دعا کریں پوری دنیا میں عظیم بھائی چارہ قائم ہو''۔

پوپ نے اپنے مختصر خطاب میں وہاں جمع ہزاروں افراد کا شکریہ ادا کیا جو ان کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے دوروز سے موجود تھے۔انھوں نے کہا کہ ''کل(جمعرات کو) میں عبادت کے لیے میڈونا جانا چاہتا ہوں۔گڈنائٹ''۔

اس سے پہلے سب سے سنئیر کارڈینل فرانس کے ژاں لوئس طوراں نے سینٹ پیٹرز باسلیکا کی بالکونی میں آکر دنیا بھر میں رومن کتھولک چرچ کے ایک ارب بیس کروڑپیروکاروں کے نئے پوپ کا اعلان کیا۔انھوں نے پہلے پوپ کا پیدائشی نام پکارا اور پھر ان کے اختیار کردہ نام کا ذکر کیا۔

ویٹی کن میں ایک سو پندرہ پادریوں پر مشتمل کونسل نے خفیہ رائے شماری کے ذریعے نئے پوپ کا انتخاب کیا ہے۔وہ منگل کی سہ پہر سے سرجوڑ کر بیٹھے ہوئے تھے۔وہ چار مرتبہ رائے شماری میں دوتہائی اکثریت (77ووٹ) سے نئے پوپ کے انتخاب میں ناکام رہے تھے اور بدھ کو پانچویں مرتبہ رائے شماری میں وہ نئے پوپ کے انتخاب میں کامیاب رہے ہیں۔

سینٹ پیٹرز اسکوائر میں لگ بھگ ایک لاکھ عیسائی اپنے نئے روحانی پیشوا کے انتخاب کی خوش خبری سننے کے منتظر تھے۔سسٹین چیپل سے سفید دھواں نکلتے ہی مجمع نے دادوتحسین کے نعرے لگا کر خوشی کا اظہار شروع کردیا۔رومن کیتھولک کی تاریخ میں ویٹی کن میں دوسو چھیاسٹھویں پوپ کا انتخاب کیا گیا ہے اور وہ پوپ بینی ڈکٹ شانزدہم کی جگہ لیں گے جو گذشتہ ماہ اچانک اپنی ذمے داریوں سے سبکدوش ہوگئے تھے۔

نئے پوپ کو پادریوں کے آئےدن منظرعام پر آنے والے جنسی اسکینڈلوں ،ویٹی کن کی بیوروکریسی میں باہم محاذآرائی اور مغرب میں خاص طور پر تیزی سے بڑھتے ہوئے سیکولرازم جیسے مسائل کا سامنا کرنا ہوگا۔سبکدوش ہونے والے پاپائے روم ان مسائل سے نمٹنے میں ناکام رہے تھے اور رومن کیتھولک چرچ کو اس وقت پادریوں کی بچوں سے نازیبا حرکات کے منظرعام پر آنے والے واقعات کی وجہ سے سُبکی کا سامنا ہے۔اس کے علاوہ عیسائی مغرب میں لادینیت تیزی سے پھیل رہی ہے اورعیسائی مذہب کا کردار تیزی سے معاشرے سے معدوم ہوتا جارہا ہے۔