.

افغان صدر کے امریکا مخالف بیان پر سخت ردعمل

حامد کرزئی کے بیان سے تشدد کو ہوا مل سکتی ہے: امریکی کمانڈر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل جوزف ڈنفورڈ نے خبردار کیا ہے کہ صدر حامد کرزئی کے حالیہ امریکا مخالف سخت بیانات سے فوجیوں کو حملوں کے خطرے کا سامنا ہوسکتا ہے۔

افغانستان میں نیٹو کے تحت انٹرنیشنل سکیورٹی اسسٹنس فورس (ایساف) نے جمعرات کو جنرل ڈنفورڈ کے اپنے سنئیر کمانڈروں کو سخت الفاظ میں بھیجے گئے بیان کی تصدیق کی ہے۔

نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق امریکی جنرل نے کہا کہ ''کرزئی کا بیان ہماری فورسز پر حملوں کے لیے محرک کا کام دے سکتا ہے اور وہ ایسے احکامات بھی جاری کرسکتے ہیں جس سے ہماری فورسز خطرے کا شکار ہوسکتی ہیں''۔

افغان صدر حامد کرزئی نے گذشتہ اتوار کوامریکی وزیردفاع کے دورے کے موقع پر امریکا کوکڑی تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور یہ الزام عاید کیا تھا کہ اس نے طالبان کے ساتھ گٹھ جوڑ قائم کررکھا ہے تاکہ افغانوں کو آیندہ سال کے بعد بھی غیرملکی فوج کی موجودگی برقرار رکھنے کا جواز فراہم کیا جاسکے۔

افغان صدر نے اس سے ایک روز پہلے دوبم دھماکوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد افغانوں کو یہ باور کرانا ہے کہ اگر امریکی فوج کا انخلاء ہوا تو پھر طالبان دوبارہ آجائیں گے۔ان دونوں بم دھماکوں میں سترہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔انھوں نے کہا کہ ''ان بم دھماکوں کے ذریعے امریکیوں کی خدمت کی جارہی ہے تاکہ غیر ملکیوں کو تادیر افغانستان میں برقرار رکھا جاسکے''۔

افغان صدر کا کہنا ہے کہ طالبان اور امریکا خلیجی ریاست قطر میں روزانہ کی بنیاد پر بات چیت کررہے ہیں لیکن طالبان مزاحمت کاروں اور امریکا نے ان کے اس دعوے کی تردید کی تھی اور کہا تھا ان کے درمیان ایک سال سے تعطل کا شکار مذاکرات بحال نہیں ہوئے ہیں۔

انھوں نے صوبہ وردک میں امریکی فوج کے ہاتھوں بے گناہ افغانوں کے قتل اور ان سے ناروا سلوک کی اطلاعات کے بعد اسے وہاں سے دو ہفتے میں نکلنے جانے کا حکم دیا تھا اور جامعات میں افغان طلبہ کو ہراساں کیے جانے کی اطلاعات کے بعد امریکی فوج پر جامعات میں کارروائیوں پر پابندی عاید کردی تھی۔

ان کے اس بیان کے ایک روز بعد سوموار کو ایک افغان پولیس اہلکار کے حملے میں دوامریکی فوجی ہلاک اور دس زخمی ہوگئے تھے۔اسی روز ہیلی کاپٹر کے ایک حادثے میں پانچ امریکی فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔