.

برطانیہ، فرانس کی جانب سے باغیوں کو مسلح کرنے کا خیر مقدم

''بشارالاسد بحران کے سیاسی حل کو قبول نہیں کریں گے''

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی حزب اختلاف کے بڑے گروپ قومی اتحاد نے فرانس کی جانب سے برطانیہ کے ساتھ مل کر صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف برسرپیکار باغی جنگجوؤں کو مسلح کرنے کا خیرمقدم کیا ہے۔

شامی قومی اتحاد کے ترجمان ولید البنی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''ہم اس کو درست سمت میں ایک قدم گردانتے ہیں کیونکہ بشارالاسد بحران کے کسی سیاسی حل کو قبول نہیں کریں گے الایہ کہ انھیں اس بات کا ادراک نہیں ہوجاتا کہ انھیں مسلح قوت شکست سے دوچار کرسکتی ہے۔

قبل ازیں فرانسیسی وزیر خارجہ لوراں فابئیس نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ ان کا ملک اور برطانیہ یورپی یونین کی حمایت کے بغیر بھی شامی باغیوں کو مسلح کرنے کے لیے تیار ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اگر یورپی یونین کے رکن ممالک کے درمیان شامی باغیوں کو مسلح کرنے کے لیے کوئی اتفاق رائے نہیں ہوتا تو وہ اس کے باوجود شامی باغیوں کو مسلح کرنے کے لیے کوئی فیصلہ کریں گے۔

برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے منگل کو ایک بیان میں کہا تھاکہ ''ہم نے شام پر اسلحے کی پابندی میں ترمیم کی ہے تاکہ ہم غیر مہلک ہتھیار مہیا کرسکیں۔مجھے توقع ہے کہ ہمارے یورپی شراکت دار مزید ضروری ترامیم سے بھی اتفاق کریں گے لیکن اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو ہم ازخود ایسا کرگزریں گے''۔

فرانسیسی وزیرخارجہ نے بدھ کو ایک بیان میں شام پر عاید اسلحے کی پابندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا لیکن جرمنی نے خبردار کیا ہے کہ شامی باغیوں کو مسلح کرنے سے خطے میں ہتھیاروں کا پھیلاؤ ہوسکتا ہے اور اس سے گماشتہ (پراکسی) جنگ شروع ہونے کا خطرہ ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کتھرین آشٹن بھی شامی حزب اختلاف کو مسلح کرنے کی مخالف ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ شامی حزب اختلاف کو اسلحہ مہیا کرنے سے شام میں برسرزمین فوجی توازن قائم ہونے کا تو امکان ہے لیکن یہ اسلحہ لڑائی میں ایندھن کا کام دے گا۔اس کے انتہا پسند گروپوں کے ہاتھ لگنے کے امکانات بڑھ جائیں گے اورمابعد اسد شام میں اسلحے کا پھیلاؤ بڑھ جائے گا۔

دوسری جانب روس نے خبردار کیا ہے کہ شامی باغیوں کو مسلح کرنے کا اقدام بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہوگا۔روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف نے ایک بیان میں کہا کہ بین الاقوامی قانون غیر حکومتی عناصر کو اسلحہ مہیا کرنے کی اجازت نہیں دیتا اور ہمارے نقطہ نظر سے یہ اقدام بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔

واضح رہے کہ یورپی یونین نے گذشتہ ماہ شامی شہریوں کے تحفظ کے لیے غیرمہلک آلات مہیا کرنے کی غرض سے اسلحہ پر پابندی میں ترمیم کی منظوری دی تھی۔برطانیہ نے یورپی یونین سے شام کو اسلحہ مہیا کرنے پر عاید پابندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا تاکہ صدر بشارالاسد کے خلاف برسر پیکار باغی جنگجوؤں کو جنگی سازوسامان مہیا کیا جاسکےلیکن برطانیہ کی اس تجویز کو مکمل طور پر نہیں مانا گیا تھا اور شام پر عاید یورپی یونین کی اسلحے کی پابندی میں ترمیم کی گئی تھی۔اس کے تحت اب یورپی ممالک باغی جنگجوؤں کو غیر مہلک آلات اور گاڑیاں مہیا کرسکتے ہیں