.

مصر: کشیدہ صورتحال پر امریکا اور یورپی یونین کا اظہار تشویش

عبوری حکومت کا مرسی کے حامیوں کے دھرنے اکھاڑ پھینکنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا اور یورپی یونین نے مصر میں سیاسی سطح پر پیدا ہو جانے والے خطرناک جمود کو ختم کرنے کی اصلاحی کوششیں ناکام ہونے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اظہار تشویش کے لیے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ'' مصری حکومت اورحزب اختلاف کے قائدین ابھی تک خطرناک صورت اختیار کیے ہوئے جمود کے خاتمے میں کامیاب ہو سکے ہیں اور نہ ہی نظر آنے والے اعتماد کی بحالی کے اقدامات کر سکے ۔ اس وجہ سے ہماری تشویش اور اضطراب باقی ہے۔''

خبر رساں اداروں کے مطابق اس امر کا اظہار امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور یورپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ کیتھرائن آشٹن کی طرف سے مشترکہ بیان میں کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے امریکا، یورپی یونین اور متحدہ عرب امارات کے نمائندے کئی دن تک کوشش کرتے رہے کہ مصر کی متحارب سیاسی جماعتوں اور فوج کی حمایت یافتہ عبوری حکومت کے درمیان پائی جانے والی خلیج کو پاٹ سکیں۔

امریکا اور یورپی یونین کے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ '' ابھی تک پائی جانے والی غیر یقینی صورت حال کے باعث ایک جانب مصر میں خونریزی کا خطرہ ہے، تو دوسری جانب یہ صورت حال ملک کے لیے انتہائی ضروری اقتصادی بحالی کی راہ میں بھی رکاوٹ ہے۔''

دریں اثناء فوج کی حمائت سے وجود میں آنے والی عبوری حکومت نے اخّوان المسلمون کوغیر ملکی سفیروں کی مصالحتی کوششوں کوناکام کرنے کی ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا کہ '' آئندہ ہونے والے واقعات کی ذمہ دار بھی اخوان ہی ہو گی۔ '' عبوری حکومت نے اس کے ساتھ ہی اخوان المسلمون کے دھرنا کیمپوں کو اکھاڑنے کا عندیہ دیا ہے۔

عبوری کابینہ نے اپنے اس فیصلے پر مضبوطی سے قائم رہنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسجد رابعہ اور النہضہ میں اخوان کے احتجاجی کیمپوں اور دھرنوں کو اکھاڑ دیا جائے گا۔ عبوری وزیر اعظم ببلاوی نے یہ بات سرکاری ٹی وی پر بھی کہی ہے۔

واضح رہے معزول کیے گئے صدر مرسی کے حامی ان کی برطرفی کے اگلے ہی روز سے ان جگہوں پرمسلسل دھرنا دے رہے ہیں۔ ان دھرنوں کے شرکاء کا دعوی ہے کہ وہ اس وقت تک دھرنا ختم نہیں کریں گے جب تک مرسی کی صدارت بحال نہیں کی جاتی۔ لیکن عبوری وزیر اعظم نے دوٹوک کہا ہے کہ مرسی کے ان حامیوں کو جلد سے جلد اپنے گھروں اور کام پر واپس جانا ہو گا۔''