خرطوم : ارتداد کی مرتکب خاتون مستقبل کے بارے میں پریشان

رہائی کے بعد پہلی بار بچی کی صحت بارے پریشانی ظاہر کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سوڈان میں ارتداد کا ارتکاب کرنے والی مریم یحی ابراہیم نے اپنی نومولود بیٹی کی صحت کے بارے میں پریشانی اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔ واضح رہے اس نے بیٹی کو مریم نے جیل میں جنم دیا تھا۔

مریم یحی ابراہیم نے رہائی کے بعد پہلی مرتبہ میڈیا سے بات کرتے ہوئے اپنی نو مولود بچی اور اپنے خاندان کے مستقبل کے بارے میں پریشانی ظاہر کی ہے۔

مریم کے بقول ''میں نے پاوں بندھی زنجیروں کے ساتھ بچی کو جنم دیا، میں زنجیروں میں جکڑے ہونے کی وجہ سے اپنی ٹانگیں نہیں کھول سکتی تھی، اس صورت حال میں خواتین نے مجھے میز سے اوپر اٹھایا اور بچی کی پیدائش ممکن ہوئی۔

مریم نے ان حالات میں پیدا ہونے والی بچی پر مستقل اثرات کے بارے میں ڈاکٹروں کی تشویش سی این این کے ساتھ شئیر کی اور کہا : ''میں نہیں جانتی مستقبل میں میری بچی بغیر مدد کے چل سکے گی یا نہیں۔''

واضح رہے امریکی شہریت کے حامل سوڈانی عیسائی سے شادی کرنے والی مریم کو چند روز پہلے ہی رہائی ملی ہے۔ اسے اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ خرطوم ائیر پورٹ سے بیرون ملک روانہ ہونے والی تھی۔

اس گرفتاری کی فوری وجہ اس کی سفری دستاویزات بنی تھیں جو اس نے جنوبی سوڈان کے سفارت خانے سے تیار کرائی تھیں، مریم کا کہنا ہے کہ اس کی سفری دستاویزات سو فیصد درست اور قانونی جواز کی حامل تھیں۔

اس کے بقول اس کی سفری دستاویزات کی تیاری پر امریکا اور جنوبی سوڈان دونوں کے سفیروں کا اتفاق تھا۔'' مریم کی رہائی کے بعد اس کے بچے اور اہل خانہ امریکی سفارت خانے میں مقیم ہیں۔ جبکہ مریم کو سوڈان میں رکھنے کی شرط سوڈان حکومت نے تسلیم کرا لی ہے۔

تاہم مریم کہا ں رہ رہی ہے اس بارے میں ظاہر نہیں کیا جا رہا ہے ۔ تاکہ اس کی سلامتی کے لیے کوئی مسئلہ نہ بنے۔ مریم نے سی این سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا : ''میں محفوظ جگہ پر ہوں۔''

یاد رہے سوڈان پر اس مرتد خاتون کے خلاف قانونی کارروائی کے حوالے سے امریکا اور برطانیہ کا غیر معمولی دباو ہے۔ مئی کے اواخر میں دونوں ملکوں نے سوڈانی ناظم الامور کو طلب کر کے اس مقدمے کے بارے میں اپنے تحفظات سے آگاہ کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں