.

غربِ اردن : فائرنگ سے تین اسرائیلی زخمی ،فلسطینی شہید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک یہودی بستی کے نزدیک ایک فلسطینی نے چیک پوائنٹ پر فائرنگ کردی ہے جس کے نتیجے میں تین یہودی زخمی ہوگئے ہیں جبکہ اسرائیلی فوجیوں نے فائرنگ کرکے اس فلسطینی کو شہید کردیا ہے۔

اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اتوار کو فائرنگ کا یہ واقعہ رام اللہ کے نزدیک واقع یہودی بستی بیت ایل میں پیش آیا ہے اور ایک مسلح شخص نے فائرنگ کردی تھی جس سے تین افراد زخمی ہوگئے۔انھیں اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔اسرائیل کے میڈیکل ذرائع کا کہنا ہے کہ دو کو شدید زخم آئے ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ موقع پر موجود فوجیوں نے حملہ آور کو گولی ماردی ہے جس سے اس کی موت واقع ہوگئی ہے۔فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی سے وابستہ ایک صحافی نے چیک پوائنٹ کے نزدیک مقتول فلسطینی کی لاش دیکھی ہے اور اس کے پاس ہی فلسطین کی نمبر پلیٹ والی سلور رنگ کی ایک کار بھی کھڑی تھی۔

فلسطینی ایمبولینس نے اس نوجوان کی لاش اٹھانے کی کوشش کی تھی لیکن اسرائیلی فوجیوں نے اس کو ایسا کرنے سے روک دیا۔

واضح رہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے اور بیت المقدس میں اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی یکم اکتوبر سے جاری تشدد آمیز کارروائیوں میں ایک سو ساٹھ فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔ان میں سے بیشتر کے بارے میں اسرائیلی فورسز نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ مبینہ طور پر حملہ آور تھے اور انھوں نے یہودیوں پر چاقو حملوں کیے تھے یا اپنی گاڑیوں کو راہ چلتے راہ گیروں پر چڑھا دیا تھا جس سے پچیس اسرائیلی اور ایک امریکی شہری ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔

اسرائیلی فورسز مبینہ طور پر چاقو حملے کرنے والے فلسطینی نوجوانوں کے خلاف طاقت کا وحشیانہ استعمال کررہی ہیں اور اسرائیلی فوجی معمولی سا شک گزرنے پر بھی فلسطینی مرد وخواتین کو سر یا سینے میں گولی مار کر موت کی نیند سلا دیتے ہیں اور پھر ان پر چاقو حملہ آور ہونے کا الزام عاید کردیا جاتا ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فلسطینی نوجوان امن عمل اور اپنی آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے گذشتہ پچاس سال کے دوران میں کوئی پیش رفت نہ ہونے کے بعد مایوسی عالم میں قابض فوجیوں اور یہودی آباد کاروں پر حملے کررہے ہیں۔