.

یورپی لیڈر برطانیہ کے لیے مجوزہ اصلاحاتی پیکج سے ناخوش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون آج جمعہ کو پولیںڈ اور ڈنمارک جارہے ہیں جہاں وہ برطانیہ کی یورپی یونین میں رکنیت برقرار رکھنے سے متعلق اصلاحات کے مجوزہ پیکج پر بات چیت کریں گے۔

یورپی کونسل کے صدر نے اسی ہفتے مجوزہ سمجھوتا شائع کیا ہے لیکن سفارتی ذرائع کے مطابق کوئی بھی یورپی لیڈر برطانیہ کو یورپی یونین میں برقرار رکھنے کے لیے اس مجوزہ سمجھوتے سے مطمئن نہیں ہے جبکہ وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کو توقع ہے کہ وہ اسی ماہ یورپی سربراہ کانفرنس میں اس ڈیل کے لیے حمایت کے حصول میں کامیاب ہوجائیں گے۔

ایک یورپی ذریعے نے اپنی شناخت ظاہر نہ کی شرط پر بتایا ہے کہ ''یورپی دارالحکومتوں سے ابتدائی ردعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ یورپی کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک کی جانب سے سامنے آنے والے مجوزہ سمجھوتے سے کوئی بھی خوش نہیں ہے''۔

اس ذریعے کے مطابق یہ عدم اطمینانی اس بات کی علامت ہے کہ ٹسک کی تجاویز شفاف اور متوازن ہیں لیکن یہ اس امر کا بھی اشارہ ہے کہ اس پر 18 اور 19 فروری کو اٹھائیس ممالک کے قائدین کے درمیان کسی ڈیل کا امکان کم ہی نظر آتا ہے۔

ڈیوڈ کیمرون نے لندن میں جمعرات کو منعقدہ شام ڈونر کانفرنس کے موقع پر ڈیوڈ ٹسک سے ملاقات کی تھی اور ان سے تجاویز پر تبادلہ خیال کیا تھا۔وہ برطانیہ کی یورپی یونین کی رکنیت سے متعلق جون میں ملک میں ریفرینڈم کرانے کا ارادہ رکھتے ہیں اور وہ مجوزہ سمجھوتے کے لیے حمایت کی غرض سے پولینڈ اور ڈنمارک کے بعد دوسرے یورپی ممالک کے دوروں پر بھی جائیں گے اور یورپی لیڈروں سے اس پر بات چیت کریں گے۔

ادھر برسلز میں یورپی یونین کے سفارت کار نئی تجاویز پر آج سے غور کر رہے ہیں اور آیندہ جمعرات کو ان کا دوبارہ اجلاس ہوگا۔وہ مجوزہ سمجھوتے پر اپنے اختلافات کے خاتمے اور سربراہ کانفرنس سے قبل کسی سمجھوتے تک پہنچنے کی کوشش کریں گے۔

ڈیوڈ کیمرون فرانسیسی صدر فرانسو اولاند سے بھی اس معاملے پرمسلسل رابطے میں ہیں۔مسٹر اولاند نے بدھ کے روز خبردار کیا تھا کہ سربراہ کانفرنس میں سمجھوتے میں کوئی زیادہ تبدیلیاں نہیں کی جانی چاہییں۔انھوں نے غیر یورو زون سے تعلق رکھنے والے ممالک کے تحفظ کے لیے مسٹر ٹسک کی تجاویز پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔تاہم برطانوی حکومت کے ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ اس پر اب موڈ تبدیل ہورہا ہے۔بعض یورپی ممالک کو خدشہ ہے کہ اس سمجھوتے کی من وعن منظوری کی صورت میں ان کے شہریوں سے امتیازی سلوک ہوسکتا ہے۔