.

ایران:جبری حجاب کی خلاف ورزی کے الزام میں 30 خواتین گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی پولیس نے حکومت کی جانب سے مسلط کردہ جبری حجاب کی خلاف ورزی کرنے اور پبلک مقامات پر سروں سے دوپٹے اتارنے کے الزام میں 30 خواتین کو حراست میں لے لیا ہے۔

خیال رہے کہ ایران میں سنہ 1979ء میں برپا ہونے والے خمینی انقلاب کے بعد خواتین کو جبری نقاب اور حجاب کرایا جاتا ہے۔

ایران کے سرکای خبر رساں اداروں ’فارس‘ ،’تسنیم‘ اور ’ایلنا‘ کے مطابق پولیس نے نظم اجتماعی میں خلل ڈالنے اور حجاب سے متعلق سرکاری قانون کی خلاف ورزی کے الزام میں 29 خواتین کو حراست میں لیا جنہیں عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ حال ہی میں ایران میں حکومت کے خلاف اٹھنے والی عوامی احتجاج کی تحریک کے دوران خواتین نے ریاست کے جبری حجاب کے خلاف بھی احتجاج کیا۔ اس موقع پر ایک نوجوان خاتون کو اپنا دوپٹا سر عام سرسے اتار کر ہوا میں لہرانے پر حراست میں لیا گیا۔

ایران میں سوشل میڈیا پر یہ خاتون ’دختر خیابان انقلاب‘ کا نام دیا گیا۔ بعد ازاں اسی نام سے ٹوئٹر پر ایسی مہمات چلائی گئیں اور خواتین نے دختر خیابان انقلاب کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے دوپٹے کے بغیر اپنی تصاویر پوسٹ کیں۔

واضح رہے کہ ایران میں سنہ 1979ء کے انقلاب کے بعد خواتین کے لباس کے لیے ایک نیا ضابطہ اخلاق جاری کیا گیا جس میں انہیں سروں کو بڑی چادر سے ڈھانپنے اور لمبے اور کھلے کپڑے پہننے کو لازمی قرار دیا گیا۔ تاہم اس قانونی پابندی کےباوجود ایران میں خواتین کو اس کی خلاف ورزی کرتے ہوئےدیکھا جاسکتا ہے۔