.

ایران میں جوہری وار ہیڈ لے جانے والے نئے بیلسٹک میزائل کی نمائش

ایران کا نیا بیلسٹک میزائل کتنا خطرناک ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حال ہی میں ایران نے ایک نیا بیلسٹک میزائل تیار کیا جو جوہری وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایران کی طرف سے یہ میزائل ایک ایسے وقت میں سامنے لایا گیا ہے جب دوسری طرف امریکا، یورپ اور عالمی سطح پر ایران کےساتھ طے پائے جوہری سمجھوتے پر نظرثانی کے مطالبات میں شدت آگئی ہے۔ مغربی ممالک اور خطے کے عرب مملکوں کو بھی تہران کے اسلحہ کے حصول کے جنون اور بیلسٹک میزائلوں پر گہری تشویش ہے۔ عالمی برادری بیلسٹک میزائلوں کی تیاری کو سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی پاسداران نے حال ہی میں ایک نیا بیلسٹک میزائل متعارف کرایا۔ یہ میزائل ’قدر F‘ کےنام سے جانا جاتا ہے جو 2000 کلو میٹر تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ایرانی حکومت نے اس میزائل کی نمائش ولایت فقیہ کے انقلاب کی39 ویں سالگرہ پر کی اور یہ پیغام دیا کہ عالمی دباؤ کے باوجود ایران بین الاقوامی قوانین کو کھلے عام پامال کررہا ہے۔

ایرانی عہدیداروں اور پاسداران انقلاب کی قیادت نے کہا کہ نیا بیلسٹک میزائل امریکی، یورپی مطالبات اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے خلاف چیلنج ہے۔

ایران نے ایک اور بیلسٹک میزائل’فجر 5‘ کی بھی نمائش کی۔ یہ میزائل درمیانےدرجے تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ میزائل ایک ایسے وقت میں سامنے لائے گئے ہیں جب خطے میں ایران کی بڑھتی سرگرمیوں اور اثرو نفوذ کوگہری تشویش کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔

بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ایران میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے نئے میزائلوں کی نمائش ملک کے اندر ہونے والے احتجاج کے دوسرے مرحلے کو ناکام بنانے اور عوام پر اپنی گرفت مضبوط کرنےکا اشارہ ہے۔

پاسداران انقلاب کے مقرب خبر رساں ادارے’تسنیم‘ کے مطابق ’قدر F‘ کی نمائش تہران میں شاہراہ آزادی اور شاہراہ شمران پر کی گئی۔ اس میزائل کی لمبائی 15.86 میٹر، اور اس کا اپنا وزن 17460 کلو گرام ہے جو 650 کلو گرام وزنی وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یہ میزائل زمین سے زمین پر مار کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا جو سائل ایندھن سے حرکت کرتا ہے۔ اس کا قطر 125 سینٹی میٹر۔

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق حکومت اور عسکری قیادت کا کہنا ہے کہ نئے بیلسٹک میزائل کو متحرک لانچر اور دیگر مختلف مقامات سےداغا جاسکتا ہے۔ داغے جانے کے بعد یہ راڈار میں دکھائی نہیں دیتا۔

ایران کی طرف سے خطیر رقم سے تیار کردہ یہ میزائل ایک ایسے وقت میں سامنے لایا گیا ہے جب دوسری طرف ایرانی عوام نان جویں کو ترس رہےہیں۔ حال ہی میں ایران میں مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی استحصال کے خلاف ملک گیر ہنگامے ہوچکے ہیں۔ دوسری طرف اسلحہ کے حصول کی دوڑ میں ایرانی رجیم بیلسٹک میزائلوں کی تیاری پر اربوں ڈالر کی رقم خرچ کررہی ہے۔

ایک اندازے کے مطابق حالیہ چند برسوں کے دوران ایران نے بیرون ملک عسکری کارروائیوں کے لیے 16 ارب ڈالر کی رقم خرچ کی۔’قدر F‘ جیسے خطرناک بیلسٹک میزائل اس کے علاوہ ہیں۔ یہ ہتھیار شمالی کوریا کی ٹیکنالوجی سے کافی حد تک مشابہت رکھتا ہے۔