.

خلیج عرب اور بحراومان میں نیا ’فتنہ‘ کھڑا کرنے کی ایرانی سازش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی نیول فورس کے سربراہ علی فدوی نے خلیج عرب اور بحر اومان میں عالمی جہاز رانی کی راہ میں ایک نئی رخنہ اندازی کی سازش کا دعویٰ کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اڈمرل علی فدوی نے ایک بیان میں کہا کہ وہ خلیج عرب اور بحر اومان میں ایرانی بحری جہازوں کے گذرنے کے لیے مخصوص راستہ بنا رہے ہیں۔ ان کا اشارہ علاقے میں جہازوں کی سلامتی کو ایک نئے خطرے سے دوچار کرنے اور بحری ٹریفک میں ایک نئی کشیدگی پیدا کرنے کی جانب تھا۔

ایرانی خبر رساں ادارے’ارنا‘ کے مطابق علی فدوی نے ایران کی اعلیٰ سلامتی کونسل کے زیراہتمام منعقدہ ایک تقریب سے خطاب میں کہا کہ کونسل خلیج عرب کے پانیوں اور بحراومان میں ایک نئی آبی گذرگاہ کو متعین کرنا چاہتا ہے۔ امریکا اور اس کے مقرب دیگر چھ ممالک بھی اسی آبی گذرگاہ کو جہازوں کو گذارنے کے پابند ہوں گے۔

ایرانی عہدیدار نے دھمکی دی کہ غیرملکی بحری جہازوں کو متوازی آبی گذرگاہوں کے استعمال اور ایران کے مقرر کردہ مقامات سے ہٹ کر جہازوں کو خالی کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ اس سے قبل بھارت کے ایک بحری جہازکو متوازی مقامات پر پانی کے ٹینک خالی کرنے کے الزام میں روکا گیا تھا۔ جب کہ خود بھارت نے بھی مخصوص آبی گذرگاہ کو استعمال نہ کرنے پر دو سال تک ایک ایرانی بحری جہاز کو روکے رکھا تھا۔

ایرانی نیوی کے عہدیدار کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ عرصے کے دوران خلیجی پانیوں میں ایرانی کشتیوں اور بحری جہازوں کے درمیان تصادم کی کیفیت پیدا ہوتی رہی ہے۔ کئی بار ایرانی عملے اور دوسرے ملکوں کے حکام کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔

گذشتہ برس 13 جون کو خلیج عرب کے پانیوں میں ایران اور امریکا کے جہازوں کےدرمیان مڈ بھیڑ ہوگئی تھی جس میں دونوں طرف سے ایک دوسرے پر فائرنگ بھی کی گئی۔ امریکی بحریہ کے ایک ہیلی کاپٹر نے ایران کی ہرمز بندرگاہ کے قریب ایرانی بحری جہاز پر فائرنگ کی تھی۔