.

خون کی ندیاں بہا دینے کے بعد پوتین کا غوطہ میں جنگ بندی کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کے صدر ولادی میر پوتین نے حکم دیا ہے کہ شام کے علاقے غوطہ کے مشرقی علاقے میں جاری لڑائی میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر روزانہ پانچ گھٹنے کا وقفہ لایا جائے۔

لڑائی میں تعطل کا یہ عمل آج منگل 27 فروری سے شروع ہو گا اور اس منصوبے میں شہریوں کو علاقے سے نکلنے کے لیے راستہ بنانے کی تجویز بھی شامل ہے۔ لڑائی میں وقفہ مقامی وقت کے مطابق صبح نو سےدن دو بجے تک ہوگا۔

شام میں باغیوں کے زیرِ قبضہ قصبہ غوطہ ایک ہفتے سے شامی حکومت کی شدید بمباری کا ہدف ہے اور اس کارروائی میں شامی فوج کو روس کی حمایت حاصل ہے۔ یہاں 393,000 شہری محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔

ایک طبی فلاحی ادارے کا کہنا ہے کہ آٹھ روز قبل لڑائی میں شدت آنے کے بعد سے حکومتی افواج کے فضائی حملوں اور گولہ باری میں اب تک کم سے کم 560 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

روس کے وزیرِ دفاع سرگے شویگو نے لڑائی میں وقفے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ تعطل روزانہ صبح نو بجے سے دوپہر دو بجے تک ہوا کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کو محفوظ راستہ دینے کے بارے میں تفصیلات جلد عام کی جائیں گی۔

نہیں۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے ہفتے کو ایک قرارداد پیش کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ تمام فریق کم از کم 30 لگاتار دنوں تک حملے بند کر دیں، تاکہ انسانی ہمدردی کی کارروائیاں سرانجام دی جا سکیں۔

تاہم روسی وزیرِ خارجہ سرگے لاروف نے کہا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی تجویز پر اسی وقت عمل ہو سکتا ہے جب تمام فریق اس بات پر متفق ہو جائیں کہ اسے کیسے رو بعمل لایا جائے۔