’ولی الفقیہ‘ کا مقام ومرتبہ لبنانی دستور سے بڑھ کر ہے: حسن نصراللہ

’صدر میشل عون حضرت علی کی اولاد میں سے ہیں‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل حسن نصراللہ نے ایک بار پھر ایرانی ولایت فقیہ کے نظام کے ساتھ اپنی اٹوٹ وفاداری کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ولی الفقیہ کا مقام ومرتبہ لبنانی دستور سے اونچا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لبنان کے شہر صیدا ،طرابلس اور جزین اہل تشیع کے مراکز ہیں اور وہاں پربسنے والے لوگ ولایت فقیہ کے ہاتھ بیعت ہیں۔

ایران کی ’فردا نیوز‘ ویب سائیٹ نے حسن نصراللہ کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں کا کہنا ہےکہ لبنانی دستور کی ولی الفقیہ کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں۔ ان کے احکامات پرعمل درآمد فرض اور واجب ہے۔ انہوں نے تین عشرے قبل بھی یہی بات کی تھی اور آج بھی اپنے اصولی موقف پر قائم ہیں۔

حسن نصراللہ نے یہ بات لبنان میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب میں کی۔ انہوں نے کہا کہ حزب اللہ ایرانی انقلاب کےساتھ پیدا ہوئی۔ ایرانی ولایت فقیہ کا بیرون ملک یہ سب سے بڑااور کامیاب تجربہ تھا۔

انہوں نے کہا کہ ایک سو سال قبل لبنان لبنان کے شیعہ اہل سنت بن گئے تھے۔ صیدا اور طرابلس شیعہ ہی رہے جب کی جزین عیسائیت میں تبدیل ہوگیا۔

لبنان حزب اللہ کے سربراہ نے دعویٰ کیا کہ موجودہ لبنامی [عیسائی] صدر میشل عون علی بن ابو طالب کی اولاد میں سے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں