.

احمدی نژاد کا خامنہ ای پر1 ارب90 کروڑ ڈالر لوٹنے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای پرقومی خزانے سے ایک ارب 90 کروڑ ڈالر کی خطیر رقم لوٹنے کا الزام عاید کیا ہے۔

احمدی نژاد کی مقرب ویب سائیٹ ’دولت بہار‘ نے سابق صدر کے دو طویل مکتوب شائع کیے ہیں۔ احمدی نژاد نے ان مکتوبات میں دعویٰ کیا ہے کہ سپریم لیڈر کی دولت کا حجم 8 لاکھ ارب تومان ہے اور امریکی ڈالر میں یہ رقم 1 ارب 90 کروڑ ڈالر بنتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ تمام رقم قومی خزانے اور شہریوں کی جیبوں سے لی گئی ہے۔ اس خطیر رقم کو ناقدین کا منہ بند کرنے کے لیے استعمال کیاجاتا ہے۔

احمدی نژاد کا کہنا ہے کہ سپریم لیڈر کی ملکیت میں دو ارب ڈالر کے مساوی رقم کو ’بنیاد 15 خرداد‘ فاؤنڈیشن، بنیاد مستضعفان‘ فاؤنڈیشن، اسٹاڈ اجرائی فرمان امام‘، بنیاد تعاون سپاہ، تعاون ارچ، بسیج ملیشیا، وزارت دفاع اور کئی دوسرے اداروں کے اکاؤنٹس میں رکھا گیا ہے۔

اپنے مکتوب میں سابق ایرانی صدر کا کہنا ہے کہ عوام موجودہ حکمرانوں سے تنگ اور مایوس ہیں۔ حکومتی کارکردگی خطرناک ہی نہیں بلکہ مایوس کن بھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عوام کے بنیادی حقوق کے استحصال پرہم کیسے خاموش رہ سکتے ہیں۔ ریاستی ادارے بالخصوص عدلیہ اور سیکیورٹی فورسز اپنے حقوق کے لیے پرامن احتجاج کرنےوالوں کو بھی جیلوں میں ڈال کر انہیں کڑی سزائیں دیتے ہیں۔

خیال رہے کہ ایران میں ولایت فقیہ کے نظام سے وابستہ مذہبی عناصر اور بڑے بڑوں کے درمیان اقتدار کی رسا کشی طویل عرصے سے جاری ہے۔ سابق صدر محمود احمدی نژاد کو کسی دور میں سپریم لیڈر کا قریبی ساتھی خیال کیا جاتا تھا مگر کچھ عرصے سے وہ رہبر انقلاب اسلامی پر کڑی تنقید کرنے کے ساتھ ساتھ حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ عدلیہ اور احمدی نژاد کے درمیان بھی طویل عرصے سے محاذ آرائی جاری ہے۔ عدالت کے حکم پر سابق صدر احمدی نژاد کے کئی قریبی ساتھیوں کو کرپشن کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔