.

ترکی نے دوما کے مہاجرین کا قافلہ جرابلس داخلے سے روک دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے والے ادارے ’آبزرویٹری‘ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ دمشق کے قریب واقع جنگ زدہ علاقے دوما سے نقل مکانی کرنےوالے شہریوں کا ایک قافلہ ترک فوج نے اپنے زیرکنٹرول جرابلس میں داخل ہونے سے روک دیا۔ مہاجرین کے قافلے نے حلب کے نواحی علاقے میں عارضی قیام کیا ہے مگر ترک فوج نے انہیں روک دیا۔ خیال رہے کہ جرابلس کوترک فوج نے’فرات کی ڈھال‘آپریشن کے ذریعے حال ہی میں کرد ملیشیا سے آزاد کرایا تھا۔

انسانی حقوق آبزرویٹری کے مطابق دوما سے آیا قافلہ ابھی تک سڑکوں پر پڑاؤ کیے ہوئے ہے۔ تا حال یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ آیا ترک فوج نے انہیں کیوں روک رکھا ہے حالانکہ قافلے اور ترک حکام کےدرمیان پہلے ایک معاہدہ بھی ہوچکا ہے۔

قافلے میں 21 بسیں شامل ہیں جن میں 1150 افراد جن میں بعض جنگجو اور کچھ عام شہری جب کہ 700 خواتین اور بچے ہیں۔

قبل ازیں انسانی حقوق آبزرویٹری نے کہا تھا کہ دوما میں جیش الاسلام اور اسد رجیم کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا ہے جس کے تحت شہر سے 1300 افراد کو محفوظ مقام تک منتقل ہونے کی اجازت دی جائے گی۔ اس کے بعد 25 بسوں کا ایک قافلہ عام شہریوں اور جیش الاسلام کے جنگجوؤں کو لے کر وہاں سے جرابلس کی طرف روانہ ہوا۔ قافلے میں فیلق الرحمان کے جنگجو گروپوں کے عناصر بھی شامل ہیں۔

حال ہی میں یہ خبریں آئی تھیں کہ جیش الاسلام اور روس کے درمیان طے پائے سمجھوتے کے تحت تنظیم سے وابستہ جنگجوؤں کو وہاں سے بہ حفاظت نکلنے کی اجازت دی جائے گی۔