.

قطر ایران نواز ملیشیا کی مدد بند کرے:امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی حکومت نے مشرق وسطیٰ میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث گروپوں کی مدد کرنے پر قطر کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور دوحہ پر زور دیا ہے کہ وہ خطے میں ایران نواز ملیشیاؤں کی مدد بند کرے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکی حکام نے قطری حکومت کے ایران نواز گروپوں کے ساتھ رابطوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ امر حیران کن ہے کہ جن گروپوں کو واشنگٹن نے دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کررکھا ہےقطر ان کی مدد کررہا ہے۔

امریکی حکومت کی طرف سےقطر سے یہ مطالبہ اس وقت سامنے آیا جب ذرائع ابلاغ میں یہ خبر شائع ہوئی کہ قطری حکومت کے حزب اللہ، ایران نواز گروپوں اور پاسداران انقلاب کے جرنیلوں کے درمیان ای میل کے ذریعےروابط موجود ہیں۔

اخبار ’سنڈے ٹیلی گراف‘ کے مطابق قطری حکومت میں کئی عہدیداروں کے پاسداران انقلاب کی اہم شخصیات جن میں قاسم سلیمانی، لبنانی حزب اللہ ملیشیا کے سربراہ حسن نصراللہ اور دیگر کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہیں۔

قطر اور شدت پسند گروپوں کے درمیان ای میل اسکینڈل کی تفصیلات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ قطر نے جنوبی عراق میں شیعہ ملیشیا کے ہاں یرغمال اپنے شہریوں کی بازیابی کے لیے ایران نوازملیشیا کو کروڑوں ڈالر کی رقم مہیا کی تھیں۔

حال ہی میں جب امریکا نے ایران کے ساتھ طے پائے جوہری معاہدے سے علاحدگی اختیار کی تو ساتھ ہی واشنگٹن نے قطر پر بھی زور دیا کہ وہ ایرانی پروردہ گروپوں سے اپنے تعلقات ختم کرے۔

ای میل اسکینڈل میں انکشاف کیا گیا ہے کہ قطری حکومت کے عہدیداروں کی ایک بڑی تعداد کے ایرانی پاسداران انقلاب کے سینیر عہدیداروں کے ساتھ گہرے اور دوستانہ مراسم ہیں۔

ایک ای میل میں انکشاف کیا گیا ہے کہ قطرنے ایرانی ملیشیا فیلق القدس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کو17اپریل 2017ء کو 50 ملین آسٹریلوی پاؤنڈ اور ایک عراقی شیعہ دہشت گرد تنظیم کو 25 ملین پاؤنڈز کی رقم ادا کی تھی۔