.

کیا مسافر طیارہ یہ ناقابل یقین کرتب انجام دے سکتا ہے ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ آسمان میں آزادی کے ساتھ اڑنا صرف میزائلوں یا لڑاکا طیاروں کی خصوصیت ہے تو آپ کو اپنی اس سوچ پر نظر ثانی کر لینا چاہیے۔

ایک تجارتی فضائی کمپنی کی وڈیو کے شان دار مناظر میں ایک طیارے کو عمودی شکل میں اڑان بھرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابقA350-900XWB ماڈل کے اس طیارے میں رولز رائس کمپنی کے انجن نصب ہیں۔ مذکورہ وڈیو میں طیارے کے کرتب کی عکس بندی رواں برس اپریل میں جرمنی کے شہر برلن میں ہونے والی(ILA) کانفرنس کے دوران کی گئی۔

اس طیارے کو عموما ایئر شوز ، ریسکیو آپریشنز اور طیارے کی اڑان کے انداز میں جدّت کے تجربات کے سلسلے میں استعمال کیا جاتا ہے۔ انگریزی ویب سائٹ thepointsguy.com کے مطابق یہ طیارہ نشستوں سے بھرے ہوئے معیاری مسافر کیبن کا حامل ہے۔

یوٹیوب پر طیارے کی وڈیو پوسٹ کیے جانے کے بعد سے ہی ہوابازی کے فنون کے شوقین افراد کی جانب سے لائیکس اور کمنٹس کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ طیارے کے مناظر کو انتہائی متاثر کن اور شان دار قرار دیا گیا۔

ایئربس کمپنیA350-900 ماڈل کو ٹکنالوجی کا جدید ترین فنّی شاہ کار قرار دیتی ہے۔ کمپنی کے مطابق اس طیارے کے تین درجوں میں مجموعی طور پر 325 مسافروں کی گنجائش ہے۔

طیارے کی باڈی کو پائیدار پلاسٹک کے کاربن فائبر سے تیار کیا گیا ہے جو جلنے والے ایندھن کی مقدار کو کم کرتا ہے اور دیکھ بھال اور مرمت کو آسان بناتا ہے۔

مسافروں کے کیبن میںLED لائٹوں کی ایک بہت بڑی تعداد موجود ہے جس کے ساتھ ہسپتالوں میں کام آنے والے فلٹرز کا استعمال کیا گیا ہے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ 65 ہزار فٹ کی بلندی پر طویل فضائی پروازیں دل اور پھیپھڑوں کے عمل میں خلل ڈالتی ہیں۔ ایسے میں انسانی اعضاء کو آکسیجن کی فراہمی تقریبا دو گنا ہو جاتی ہے جس سے تھکن اور سانس میں گھٹن کا احساس ہوتا ہے۔