عراق میں سیاسی اتحادوں کے اجلاس میں قاسم سلیمانی کیا کر رہا تھا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عراقی دارالحکومت بغداد کے گرین زون میں الفتح اور اسٹیٹ آف لاء جیسے انتخابی اتحادوں کے اجلاسوں میں عراقی پاسداران انقلاب کے بدنام زمانہ کمانڈر قاسلم سلیمانی کا نظر آنا عراقی انتخابات کے نتائج کے اعلان میں تاخیر سے جڑا نظر آتا ہے۔ سلیمانی کی موجودگی کا مقصد عراقی حکومت کی تشکیل کو ایرانی تڑکا لگانا ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل عراق کے الیکشن کمیشن نے اعلان کیا تھا کہ آئندہ چند گھنٹوں میں انتخابی نتائج کا سرکاری طور پر اعلان کر دیا جائے گا۔

گرین زون میں حکومتی کمپاؤنڈ کے ایک خصوصی ذریعے نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر بتایا کہ گزشتہ رات عراقی شیعہ رہ نماؤں ہادی العامری ، نوری المالکی اور انجیںئر ابو مہدی کے درمیان ہونے والی خصوصی ملاقات میں ایرانی القدس فورس کا کمانڈر قاسم سلیمانی بھی موجود تھا۔ اس دوران دیگر بلاکوں کی شمولیت کے ساتھ ایک سیاسی اتحاد کی تشکیل کو حتمی شکل دی جانی تھی تا کہ پارلیمنٹ کے پہلے اجلاس میں سب سے بڑے بلاک کا اعلان کیا جا سکے۔ آئین کے مطابق اس بلاک کو نیا وزیراعظم نامزد کرنے کا حق حاصل ہو گا۔

سیاسی تجزیہ کار جاسم الاسدی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "عراق کے الیکشن کمیشن نے خود کو پابند کیا تھا کہ پولنگ بکس کے بند کیے جانے کے چند گھنٹوں کے بعد حتمی نتائج کا اعلان کر دے گا تاہم اب یہ حالیہ تاخیر، کئی روز سے نمایاں ہونے والا ایرانی سفارت خانے کا کردار اور گرین زون میں قاسم سلیمانی کا نمودار ہونا .. یہ سب امور اس حقیقت کو ظاہر کر رہے ہیں کہ ایران تمام شیعہ گروپوں کو اکٹھا کرنے کے لیے اپنا دباؤ ڈال رہا ہے تا کہ ایسا اتحاد تشکیل دیا جائے جو آئندہ حکومت بنا سکے۔ موجودہ وزیر اعظم حیدر العبادی کو بھی اس نئی تشکیل میں شامل ہونے کے لیے سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔ اس بات کی پوری کوشش کی جا رہی ہے کہ اب تک بعض صوبوں کے ابتدائی نتائج کے مطابق سرفہرست سیاسی اتحاد "سائرون" کی بساط لپیٹ دی جائے۔ دونون سیاسی اتحاد سائرون اور الفتح کے درمیان بہت کم فرق ہے اور بیرون ملک مقیم عراقیوں کے ڈالے گئے ووٹ فیصلہ کن کردار ادا کریں گے"۔

یاد رہے کہ عراقی میڈیا نے گزشتہ روز اعلان کیا تھا کہ چار سیاسی بلاکس آج ایک دستاویز پر دستخط کریں گے جس کے تحت ایک سیاسی اتحاد قائم کیا جائے گا۔ اس اتحاد میں ہادی العامری، نوری المالکی، ایاد علاوی اور شاید سلیم الجبوری بھی شامل ہوں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں