.

نادیہ عبدالصمد : مصر کی پہلی خاتون ڈیلیوری رائڈر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے شہر اسکندریہ سے تعلق رکھنے والی خاتون نادیہ عبدالصمد نے آثاریات کے شعبے میں بیچلرز کی ڈگری حاصل کی۔ فارغ التحصیل ہونے کے فورا بعد انہوں نے اسکندریہ لائبریری میں کام شروع کر دیا۔ تاہم شادی کے بعد نادیہ کے شوہر نے ان کو گھرداری کے لیے مکمل طور پر فارغ ہونے کے لیے کہا جس پر انہوں نے ملازمت چھوڑ دی۔

نادیہ نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ شادی کے 8 سال گزر جانے کے بعد بھی وہ ابھی تک ماں بننے سے محروم ہیں۔ نادیہ نے بتایا کہ کام کے بغیر انہیں گھر میں بوریت کا احساس ہوا جس پر انہوں نے اپنے شوہر سے کام کرنے کی اجازت مانگی اور شوہر نے آمادگی کا اظہار کر دیا۔ نادیہ نے اسکندریہ لائبریری میں واپس جانے کی کوشش کی مگر ان کی درخواست مسترد ہو گئی۔

اس کے بعد نادیہ نے متعدد کمپنیوں کے دروازے کھٹکھٹائے تا کہ مناسب نوکری حاصل کر سکیں مگر ہر بار انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ ملازمت کی تلاش کے دوران نادیہ نے ایک موٹر بائیک خرید لی تا کہ پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر سے بچ سکیں۔ انہیں ویسے بھی موٹر بائیک پر سوار ہونے کا جنون کی حد تک شوق ہے۔

ایک روز نادیہ کی کسی دوست نے جو گھریلو اشیاء اور میک اپ کا سامان فروخت کرتی ہیں، ٹیلیفون پر گفتگو کے دوران نادیہ کو اپنے آرڈر کی ترسیل میں تاخیر کا ذکر کیا جس کی وجہ ڈیلیوری کی عدم دستیابی تھی۔ اسی لمحے نادیہ کے دماغ میں یہ خیال کوندا اور انہوں نے اپنی دوست کے سامنے ڈیلیوری رائڈر کی خدمات پیش کرنے کی تجویز رکھ دی۔ نادیہ کی دوست کو شدید حیرانی ہوئی کیوں کہ معاشرے میں اس چیز کو قبول نہیں کیا جاتا۔

بہرکیف نادیہ کی دوست ڈیلیوری رائڈر کے اس کام پر آمادہ ہو گئی۔ نادیہ کے شوہر اور گھر والوں نے ابتدا میں اس اندیشے کا اظہار کیا کہ مذکورہ کام میں بطور عورت مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے، تاہم بعد ازاں وہ آمادہ ہو گئے۔

نادیہ کا کہنا ہے کہ ان کی گاہک صرف خواتین ہیں۔ ڈیڑھ برس کے اندر وہ اسکندریہ شہر میں مشہور ہو چکی ہیں۔ اب ان کو اپنے آرڈرز پورے کرنے کے لیے طویل دورانیے تک کام کرنا ہوتا ہے۔ نادیہ کا کہنا ہے کہ وہ سکیورٹی کے پیش نظر دور دراز کے علاقوں میں ڈیلیوری پہنچانے سے انکار کر دیتی ہیں۔

نادیہ نے سوشل میڈیا پر ایک پیچ بھی متعارف کرایا ہے تا کہ چیزوں کی آن لائن فروخت کرنے والی خواتین کے ڈیلیوری آرڈرز حاصل کر سکیں۔

نادیہ اس بات پر مسرت کا اظہار کرتی ہیں کہ اداروں اور کمپنیوں کی جانب سے ملازمت کی درخواست مسترد ہونے کے نتیجے میں وہ ایسے کام کے ساتھ وابستہ ہو گئیں جو ہر روز ان کے ساتھ ترقی پا رہا ہے۔ نادیہ نے کہا کہ ان کا خواب ہے کہ وہ ایک دن ایک کوریئر کمپنی قائم کریں جہاں پر تمام ملازمین خواتین اور لڑکیاں ہوں۔