.

حرم مکی کی 65 سال پرانی نادر رنگین تصویر کی کہانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان سے تعلق رکھنے والے فوٹوگرافر صفوح النعمانی کے پاس 1950 کی دہائی میں حرم مکی کی نادر رنگین تصاویر کا مجموعہ محفوظ ہے۔ یہ تصاویر سعودی مملکت کے دور میں شروع ہونے والی توسیع سے پہلے کی ہیں۔

صفوح النعمانی 1950 کی دہائی میں سعودی عرب میں داخل ہوئے۔ انہوں نے مکہ مکرمہ ، مدینہ منورہ اور جدہ کی سیکڑوں تصاویر اپنے کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کیں۔ یہ تصاویر سعودی عرب کی تاریخ میں تعمیرات کے ایک اہم مرحلے کی تصدیق کرتی ہیں۔ النعمانی مذکورہ تینوں شہروں میں سکونت پذیر رہے اور اس دوران انہوں نے حج سیزنوں سمیت متعدد مواقع پر اہم مناظر کی توثیق کی۔

صفوح النعمانی کی جانب سے 1954 میں مملکت کے دوسرے فرماں روا شاہ سعود بن عبدالعزیز کے دور میں لی گئی حرم مکی کی مشہور تصویر مسجد حرام کی سب سے پرانی رنگین تصویرشمار ہوتی ہے۔ النعمانی نے ایک زاویے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ہر کونے سے مسجد حرام اور خانہ کعبہ تصاویر کو اپنے کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کیا۔

صفوح النعمانی کے بیٹے عمر النعامی نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ "میرے پاس گزشتہ صدی میں 50ء اور 60ء کی دہائیوں میں حرم مکی اور سعودی عرب کی زندگی کی 1600 سے زیادہ تصاویر ہیں جن کو ابھی تک جاری نہیں کیا گیا۔ میرے والد نے یہ تصاویر سرکاری موقعوں پر لیں"۔

عمر نے مزید بتایا کہ "میرے والد کی دکان میں آگ لگ گئی تھی جس کے نتیجے میں وہ اپنے پاس موجود پرانی تصاویر سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ انہوں نے 1954 سے ان تاریخی تصاویر کو کیمرے کے ذریعے محفوظ کرنے کا دوبارہ آغاز کیا".

صفوح النعمانی تقریبا دو سال پہلے وفات پا گئے۔ انہوں نے اپنے پیچھے تصاویر کی ایک ضخیم لائبریری چھوڑی ہے۔ خادم حرمین شریفین نے النعمانی کے بیٹوں سے خصوصی طور پر تعزیت کی جن کے والد نے تعمیرات کے شعبے میں سعودی عرب کی تاریخ کے ایک اہم مرحلے کی توثیق میں بھرپور کردار ادا کیا۔