.
یمن اور حوثی

یمن کے لیے اقوام متحدہ اور امریکا کے ایلچیوں کا خلیج کا دورہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے لیے امریکا کے ایلچی ٹموتھی لینڈرکنگ نے خلیجی ممالک کا دورہ شروع کیا ہے۔ یہ ان کے تقرر کے بعد دو ماہ سے بھی کم عرصے میں خلیج کا تیسرا دورہ ہے۔

عربی روزنامے "الشرق الاوسط" کے ذرائع نے بتایا ہے کہ دورے میں زیر بحث آنے والے امور میں سعودی امن منصوبہ سرفہرست ہو گا۔ لینڈرکنگ کے دورے کا آغاز مسقط سے ہوا ہے۔ بعد ازاں وہ ریاض میں یمنی حکومت کے ساتھ کئی ملاقاتیں کریں گے۔

دریں اثنا سلطنت عُمان کے وزیر خارجہ بدر بن حمد البوسعیدی اور یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی مارٹن گریفتھس کے درمیان یمن کی صورت حال پر بات چیت ہوئی۔ مسقط میں ہونے والی ملاقات میں جنگ روکنے اور سیاسی عمل کو زندہ کرنے کے واسطے جاری کوششیں زیر بحث آئیں۔ ان کا مقصد یمن اور خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنانا ہے۔

ملاقات کے بعد مارٹن گریفتھس کا کہنا تھا کہ "مسقط میں ہونے والی بات چیت تعمیری رہی۔ یمن میں امن کے استحکام کے واسطے اقوام متحدہ کی کوششوں کی سپورٹ پر میں نے عمان کے وزیر خارجہ کا شکریہ ادا کیا"۔

اس سے قبل گریفتھس نے کئی ماہ کے توقف کے بعد حوثی ملیشیا کی قیادت کے ساتھ رابطوں اور ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا۔

اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کے دفتر کی جانب سے جمعے کی شام ایک بیان جاری کیا گیا۔ بیان میں بتایا گیا کہ مارٹن گریفتھس نے مسقط میں حوثیوں کے مذاکراتی وفد کے سربراہ محمد عبدالسلام کے ساتھ ملاقات کی۔ ملاقات میں جن امور پر بات چیت ہوئی ان میں صنعاء ہوائی اڈے کے کھولے جانے کے لیے معاہدے کی شدید ضرورت، الحدیدہ کی بندرگاہوں پر پابندیوں میں نرمی، پورے ملک میں فائر بندی پر عمل درامد اور اقوام متحدہ کے زیر سرپرستی سیاسی بات چیت کا دوبارہ آغاز شامل ہے۔

خبروں سے متعلق یمنی ویب سائٹوں کے مطابق حوثیوں نے یمن میں تنازع کے خاتمے کے واسطے سعودی عرب کے مجوزہ منصوبے پر ابتدائی موافقت کا اظہار کیا ہے۔

یمن میں جنگ کے خاتمے کے لیے سعودی عرب کے مجوزہ منصوبے کو عرب دنیا میں اور بین الاقوامی سطح پر وسیع پذیرائی حاصل ہوئی۔ امریکا، برطانیہ، مصر، کویت، اردن، بحرین، امارات، قطر، عُمان، اقوام متحدہ اور یورپی یونین کے علاوہ دیگر ممالک نے بھی اس منصوبے کا خیر مقدم کیا۔