.

سعودی عرب پر حملوں میں استعمال ہونے والا اسلحہ ایرانی ہے : برطانیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں برطانیہ کے سفیر نیل کرومپٹن نے باور کرایا ہے کہ ان کا ملک اس حقیقت کا ادراک رکھتا ہے کہ سعودی عرب پر حملوں میں جو ہتھیار استعمال ہو رہے ہیں وہ ایرانی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ہم حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کے اپنی سرزمین کے دفاع کی حمایت کرتے ہیں"۔

برطانوی سفیر نے زور دیا کہ سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر حملہ ایک خطرناک جارحیت ہے۔

اتوار کے روز سعودی اخبار عکاظ کے ساتھ ایک انٹرویو میں کرومپٹن کا کہنا تھا کہ "ہم جانتے ہیں کہ حوثیوں کی مدد کے لیے یہ اسلحہ ایران سے آ رہا ہے۔ یہ حوثیوں کی جانب سے خطرناک جارحیت شمار ہوتی ہے۔ اس سے یمن کے حل کے واسطے سعودی امن منصوبے کی اہمیت بڑھ گئی ہے جس کا ہم نے خیر مقدم کیا ہے"۔

کرومپٹن نے برطانیہ اور سعودی عرب کے درمیان مضبوط اور تاریخی تعلقات کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ برطانوی حکومت سعودی عرب کے ویژن 2030ء کو سپورٹ کرتی ہے۔ کرومپٹن کے مطابق 18 ہزار سعودی طلبہ و طالبات برطانیہ میں زیر تعلیم ہیں۔ دوسری جانب 20 ہزار برطانوی سعودی عرب میں کام کر رہے ہیں۔

ایرانی ساختہ ڈرون (آرکائیو- فرانس پریس)
ایرانی ساختہ ڈرون (آرکائیو- فرانس پریس)

یمن میں آئینی حکومت کی حمایت کرنے والے عرب اتحاد نے ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کی طرف سے حملوں کے لیے تیار کیے گئے دو بم بار ڈرون اور بارود سے لدی دو کشتیاں تباہ کردیں۔ یہ ڈرون طیارے اور بارودی کشتیاں آج اتوار کے روز الحدیدہ میں ایک کارروائی کے دوران تباہ کی گئیں۔

عرب اتحاد کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حوثی باغی اسٹاک ہوم معاہدے کو الحدیدہ میں حملوں اور عالمی اور علاقائی جہاز رانی کو خطرے میں ڈالنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

قبل ازیں عرب اتحاد نے سعودی عرب کے جنوب میں حوثیوں کے دو بم بار ڈرون طیارے تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔