.

ویکسین کے بعد کرونا وائرس کا 'قاتل' روبوٹ بھی آ گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دنیا ابھی بھی کرونا وائرس کے بارے میں پانی جانے والی پریشانیوں کے جلو اور ویکسین کے ذریعے اس پر قابو پانے کی کوششوں کے دوران ایک سوئس کمپنی نے ایسا روبوٹ تیار کیا ہے جو ہوائی جہازوں کے اندر کرونا وائرس کو ہلاک کرکے مسافروں کو وبا سے بچا سکتا ہے۔ فضائی سفر کے میدان میں یہ ایک اہم پیش رفت ہے کیونکہ کرونا کی وجہ سے لوگ ہوائی جہازوں سے سفر سے گریز کرتے ہیں۔ اس طرح عوام الناس کا فضائی سفرپر اعتماد ایک بار پھر بحال ہوگا۔

فی الحال سوئس طیاروں میں 'وائرس کلنگ'روبوٹ کا تجربہ کیا گیا ہے۔ یہ روبوٹ الٹرو وایلیٹ شعاعوں سے لیس ہےجس کا مقصد مسافروں کا اعتماد بحال کرنا اور ہوابازی اور سفر کے شعبے کو کوڈ -19 وبائی امراض کے نتیجے میں ہونے والے مزید نقصانات سے بچانا ہے۔

سوئس اسٹارٹ اپ یووییا دبئی میں مقیم کمپنی ڈناٹا ایئر سروسز کے تعاون سے سوئس ارب پتی مارٹن ایبنر کی ملکیت ایک چارٹر کمپنی ہیلویٹک ایئرویز کے ایمبیریر طیاروں پر روبوٹکس ٹرائل کیا جا رہا ہے۔

یو ویا کے شریک بانی جڈوک المیگر نے کہا کہ ہوائی جہاز تیار کرنے والوں کو اب بھی روبوٹ کی منظوری دینا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ طیارے کے اندر کی نشستوں پر الٹرا وایلیٹ شعاعوں کے اثر کا مطالعہ کر رہے ہیں کیونکہ یہ شاعیں جراثیم کش ہونے کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ روبوٹ کرونا وائرس کے پھیلنے کے باوجود لوگوں کے ہوائی سفر کے خوف کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوں گے۔

ایلیمگر کی ٹیم نے اب تک روبوٹ کی تین پروٹو ٹائپ ڈیزائن کی ہیں جن میں سے ایک کو زیورک ہوائی اڈے پر ہیلویٹک طیارے کے اندر کام کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا جہاں پچھلے سال ٹریفک میں 75 فیصد کی کمی واقع ہوئی تھی۔

روبوٹ کی لائٹس ایک فریم پر لگائی گئی ہیں اور روبوٹ جب نیچے جاتا ہے تو ہر چیز کو نیلے رنگ کی چمک سے روشن کرتا ہے۔ یہ ربورٹ 13 منٹ کے اندر اندر طیارے میں موجود جراثیم کو ہلاک کرکے اسے صاف کر سکتا ہے۔

اس روبوٹ کی قیمت تقریبا 15،000 سوئس فرانک (تقریبا 16،000 ڈالر) تک ہوسکتی ہے اور اسے فضائی سروس فراہم کرنے والی کمپنیاں بڑی تعداد میں خریدنے میں دلچسپی لے رہی ہیں۔