.

سعودی فن کار خالد سامی کے گردے کی پیوند کاری کی تیاری، گردہ بیٹی نے عطیہ کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

طبی حالت ٹھیک ہونے اور ڈاکٹر کی طرف سے تسلی کے بعد سعودی عرب کے ایک سینیر فن کار خالد سامی کے گردے کی پیوند کاری کی تیاری شروع کردی گئی ہے۔گردہ عطیہ کرنے والے شخص کے حوالے سے حیران کن خبرسامنے آئی ہے۔ وہ یہ کہ خالد سامی کو گردہ اس کی اپنی 25 سالہ بیٹی سارہ نے عطیہ کیا ہے۔

ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ خالد سامی کے گردے ناکارہ ہونے کے بعد ان کے پاس وقت بہت کم تھا اور باہر سے گردہ آنے کے انتظار کی گنجائش نہیں تھی اس کے گردہ عطیہ کرنے کی قربانی خاندان کے کسی فرد کو دینا تھی۔

خالد سامی کی اہلیہ عایدہ العتیبی نے بتایا کہ ان کے شوہر کے منع کرنے کے باوجود گردہ ان کی بیٹی سارہ نے عطیہ کیا کیونکہ خاندان کا اس پر اصرار تھا۔ سارہ کا گردہ نکالنے کے لیے تمام ضروری میڈیکل ٹیسٹ لیے گئے۔

خالد سامی کی اہلیہ عایدہ العتیبی نے بتایا کہ ان کے شوہر کی حالت اب بہتر ہے۔ ان کی یادداشت بحال ہوگئی ہے اور وہ فطری انداز میں سانس لے رہے ہیں۔ انہیں اسپتال سے بھی ڈسچارج کردیا گیا ہے تاکہ انہیں گردے کی پیوند کاری کے لیے ذہنی طور پر تیار کیا جاسکے۔ گردے کی پیوند کاری کا آپریشن 2 رمضان المبارک کو کیا جائے گا۔

خالد سامی کی کومے میں چلے جانے کی وجوہات کے بارے میں العتیبی کا کہنا تھا کہ وہ ان وجوہات کو نہیں جان سکے تاہم ان کی حالت اب کافی بہتر ہے۔

خیال رہے کہ العربیہ ڈاٹ‌نیٹ نے خالد سامی کے اسپتال منتقل کیے جانے کے بعد ان کی صحت کی مکمل کوریج کی ہے۔ انہیں سانس لینے میں تکلیف کے بعد اسپتال منتقل کیا گیا تھا اور وہ 18 گھنٹے کومے میں رہنے کے بعد ہوش میں آگئے تھے۔ ان کی اہلیہ کا کہنا تھا کہ خالد کی آواز بہت کمزور تھی جو سنائی نہیں دیتی تھی تاہم وہ اشاروں اور باتوں کا جواب دیتے تھے۔